انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 458

انوار العلوم جلد 9 ۴۵۸ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل بھی دنیا میں ایک قوم ہے اور جب یہ ماننا پڑے گا تو کیونکر اس شخص سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ہندوؤں کے بزرگوں کو گالیاں نکالے۔ مہاراج کرشن و رام چندرجی نبی تھے میں تو مانتا ہوں کہ کرشن اور رام چندر جی نبی تھے۔ ممکن ہے دوسرے مسلمان میرے ساتھ متفق نہ ہوں لیکن وہ بھی اگر انہیں اچھا نہ کہیں تو انہیں بڑا بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ سب قرآن کو ماننے والے ہیں۔ اگر مسلمان مسلمان ہیں اور اگر قرآن شریف کی تعلیم ان کے لئے حجت ہے تو وہ ہرگز ہرگز اس آیت کے ماتحت جو میں نے پڑھی ہے کسی قوم کے نبی کو بڑا نہیں کہہ سکتے۔ قرآن شریف میں جو یہ کہا گیا ہے کہ ہر قوم میں نبی آئے اس میں یہ بھی مصلحت ہے کہ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ وہ کسی قوم کے نبی کو بڑا نہ کہیں کیونکہ وہ خدا کی طرف سے ہیں۔ لیکن جہاں تک میں جانتا ہوں ہندو اس کے مقابل پر اپنی کوئی تعلیم نہیں پیش کر سکتے جس میں انہیں اس قسم کی تعلیم کے ذریعہ مذہبی رواداری کا سبق دیا گیا ہو اور جس سے وہ دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی عزت کرنا سیکھیں۔ جس طرح میں کرشن اور رام چندر جی کی عزت کرتا ہوں کیونکہ وہ قرآن کی تعلیم کے مطابق نبی تھے اسی طرح ہندو وید سے جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ تعلیم نہیں پیش کر سکتے کہ وہ بھی دوسری اقوام کے نبیوں کو نبی کہیں مگر بہر حال ان کو عقلاً یہ ضرور تسلیم عقلاً یہ ضرور تسلیم کرنا ہو گا کہ کم سے کم دوسری اقوام کے بزرگوں کو بڑا کہنا مذہب کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ تمام ملکوں میں نیا نبی پھر خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ ہی نہیں بتایا کہ تمام قوموں میں میں نبی أُمَّةٍ رَسُولاً کے کہ یہ تمام قوموں میں رسول آئے۔ پس کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ قرآن میں نذیر کا لفظ ہے رسول نہیں ہے اور نذیر کچھ اور ہوتا ہے۔ غرض قرآن کریم کے رو سے ہر قوم میں نبی اور رسول آتے رہے ہیں اور کسی ملک میں بھی کسی نبی کا پتہ ملے مجھے اس کے ماننے میں عذر نہیں ہو سکتا۔ خواہ ہندوستان میں ہو، خواہ چین میں۔ کیونکہ جب قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر قوم میں نبی آئے تو مجھے مانٹا پڑے گا کہ ضرور آئے۔ اس صورت میں کسی ایسے شخص کے متعلق جسے کسی قوم یا کسی ملک کے لوگ نبی کہتے ہوں میں نہیں کہ سکتا کہ وہ جھوٹا تھا۔ فرض کر لیا جائے اگر میں اسے اچھا نہیں کہہ سکتا تو کم از کم یہ جرات بھی مجھ میں پیدا نہیں ہو سکتی کہ میں اسے بڑا کہوں کیونکہ تعجب نہیں جسے میں بڑا کہوں اور جھوٹا ٹھہراؤں وہ فی الواقع خدا کی طرف سے ہو۔ پس ایک مسلمان جب قرآن