انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 455

انوار العلوم جلد 9 ۴۵۵ ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل دوسرے مذہب کی بڑائی نہ کرلے اس وقت تک اس کی برتری ثابت نہیں ہو سکتی۔ ہم اس بات کے عادی ہو گئے ہیں کہ دوسروں میں کیڑے نکالیں ان کو جھوٹا کہیں۔ جا بجا کہتے پھریں کہ فلاں مذہب بہت بڑا ہے اس میں تعفن پیدا ہو گیا ہے ہے اور اس حد تک تک تعفن پیدا ہو گیا ہے کہ پاس جاتے ہوئے دماغ پھٹ جاتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پچھلا زمانہ انحطاط کا زمانہ گزرا ہے اس میں ہر قسم کی قابلیت کم ہو گئی تھی اس وقت لوگوں میں بلند ہمتی نہ رہی تھی اس لئے بجائے اس کے کہ اپنے مذہب پر غور کرتے ان کی خوبیاں معلوم کرتے اور دوسروں کو ان سے آگاہ کرتے لوگوں نے یہ طریق اختیار کر لیا کہ اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لئے دوسر دوسرے مذہبوں کو بڑا کہنے لگ گئے۔ : نے لگ گئے۔ مذہب کی خوبیوں سے واقف ہونے کے لئے عبادت، خدا کی محبت اور وقت کی قربانی کی ضرورت تھی لیکن ہمارے ملک میں نہ عبادت رہی نہ خدا کی محبت نہ مذہب کے لئے وقت کی قربانی کی عادت۔ اس لئے ان کی جگہ یہ بات پیدا ہو گئی کہ دوسرے مذاہب کو برا بھلا کہنے لگ گئے کیونکہ بلند ہمتی نہ رہی تھی۔ دوسرے مذاہب کو بڑا کہہ دینے اور ان کے نقائص بیان کر دینے سے ہی لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے بڑا کام کر لیا۔ یہ دو وجہیں ہیں ملک کے فسادات کی جنہیں سیاسی اور مذہبی عدم ضرورت اصلاح رواداری کہا جاتا ہے اور یہ اس ملک کے لوگوں نے خود پیدا کی ہیں ورنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ رواداری کے جذبہ سے محروم نہیں کئے گئے۔ پچھلے اعمال کے اثرات سے یہ بات پیدا ہوئی کہ نہ سیاسی رواداری باقی ہے اور نہ مذہبی رواداری۔ اور جب تک یہ نقص دور نہ کیا جائے گا اور ملک میں عدم رواداری کا جو مادہ پیدا ہو گیا ہے اسے خارج نہ کیا جائے گا اس وقت تک ترقی نہیں ہو سکے گی۔ لیکن یہ حالت ایک دن میں پیدا نہیں ہو سکتی اس کے پیدا کرنے میں دیر لگے گی پس اس وقت تک کہ یہ حالت پیدا ہو ہمیں ایسی شرائط طے کر لینی چاہئیں جن پر عمل کر کے عارضی طور پر یہ بڑے جذبات ان لوگوں کے دلوں میں دبے رہیں جو اس مرض میں مبتلاء ہیں اور ان کے بار بار ظاہر ہونے سے ملکی امن کو نقصان پہنچے۔ نے دیکھا ہے عد میں نے عدم رواداری سے دو م رواداری کے دو خطرناک نتیجے راہی نے پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ خطرناک نتیجے فرض کر لیا جاتا ہے کہ دشمن کوئی اچھی بات کہہ ہی نہیں سکتا۔ رواداری کے فقدان کی وجہ سے ہندو فرض کر لیتے ہیں کہ مسلمان جو کچھ کرتے ہیں بڑا کرتے ہیں اور مسلمان یہ سمجھ لیتے ہیں کہ