انوارالعلوم (جلد 9) — Page 455
۴۵۵ دوسرے مذہب کی بُرائی نہ کرلے اس وقت تک اس کی برتری ثابت نہیں ہو سکتی۔ہم اس بات کے عادی ہو گئے ہیں کہ دوسروں میں کیڑے نکالیں ان کو جھوٹا کہیں۔جا بجا کہتے پھریں کہ فلاں مذہب بہت بُرا ہے اس میں تعفّن پیدا ہو گیا ہے اور اس حد تک تعفن پیدا ہو گیا ہے کہ پاس جاتے ہوئے دماغ پھٹ جاتا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پچھلا زمانہ انحطاط کا زمانہ گزرا ہے اس میں ہر قسم کی قابلیت کم ہوگئی تھی اس وقت لوگوں میں بلند ہمتی نہ رہی تھی اس لئے بجائے اس کے کہ اپنے مذہب پر غور کرتے ان کی خوبیاں معلوم کرتے اور دوسروں کو ان سے آگاہ کرتے لوگوں نے یہ طریق اختیار کر لیا کہ اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لئے دوسرے مذہبوں کو بُرا کہنے لگ گئے۔ذہب کی خوبیوں سے واقف ہونے کے لئے عبادت، خدا کی محبت اور وقت کی قربانی کی ضرورت تھی لیکن ہمارے ملک میں نہ عبادت رہی نہ خدا کی محبت نہ مذہب کے لئے وقت کی قربانی کی عادت۔اس لئے ان کی جگہ یہ بات پیدا ہو گئی کہ دوسرے مذاہب کو بُرا بھلا کہنے لگ گئے کیونکہ بلند ہمتی نہ رہی تھی۔دوسرے مذاہب کو بُرا کہہ دینے اور ان کے نقائص بیان کردینے سے ہی لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے بڑا کام کر لیا۔ضرورت اصلاح یہ دو وجہیں ہیں ملک کے فسادات کی جنہیں سیاسی اور مذہبی عدم رواداری کہا جاتا ہے اور یہ اس ملک کے لوگوں نے خود پیدا کی ہیں ورنہ خدا تعالی کی طرف سے یہ رواداری کے جذبہ سے محروم نہیں کئے گئے۔پچھلے اعمال کے اثرات سے یہ بات پیدا ہوئی کہ نہ سیاسی رواداری باقی ہے اور نہ مذہبی رواداری۔اور جب تک یہ نقص دور نہ کیا جائے گا اور ملک میں عدم رواداری کا جو مادہ پیدا ہو گیا ہے اسے خارج نہ کیا جائے گا اس وقت تک ترقی نہیں ہو سکے گی۔لیکن یہ حالت ایک دن میں پیدا نہیں ہو سکتی اس کے پیدا کرنے میں دیر لگے گی پس اس وقت تک کہ یہ حالت پیدا ہو ہمیں ایسی شرائط طے کر لینی چاہئیں جن پر عمل کر کے عارضی طور پر یہ بُرے جذبات ان لوگوں کے دلوں میں دبے ر ہیں جو اس مرض میں مبتلاء ہیں اور ان کے بار بار ظاہر ہونے سے ملکی امن کو نقصان پہنچے۔عدم رواداری کے دو خطرناک نتیجے میں نے دیکھا ہے عدم رواداری سے دو خطرناک نتیجے پیدا ہوتے ہیں۔پہلا یہ کہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ دشمن کوئی اچھی بات کہہ ہی نہیں سکتا۔رواداری کے فقدان کی وجہ سے ہندو فرض کر لیتے ہیں کہ مسلمان جو کچھ کرتے ہیں بُرا کرتے ہیں اور مسلمان یہ سمجھ لیتے ہیں کہ