انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 454

۴۵۴ اس کے لئے اپنی قوم کا اپنے لوگوں کی طرف دیکھے اور انہیں ہر قسم کی رعایت دے اور دوسرے لوگوں کو ان فوائد سے محروم رکھے۔ہندوستان میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے کیونکہ ہر بادشاہ یا ہر راجہ یہ محسوس کرتا تھا کہ اگر اپنے جتھے کی رعایت نہ کی جائے گی اور اگر اسے خاص حقوق نہ دیئے جائیں گے تو وہ اس کی مدد نہ کرے گا اور لڑائی کے موقع پر اس کا ساتھ نہ دے گا اور حکومت قائم نہ رہے گی۔ایساجتھہ ان کی اپنی قوم ہی کا ہوتا تھا۔اور ان خاص مراعات کی وجہ سے جو ان کو ملتی تھیں بادشاہ کی قوم خیال کرتی تھی کہ گویا حکومت انہی کی ہے اور اس کی حفاظت کا خیال اسے رہتا تھا۔غرض اس ملک کے بادشاہوں اور راجوں کو اپناجتھہ قائم کرنے کے لئے یہ طریق اختیار کرنا پڑتا اور اس جتھہ کے فوائد کے لئے دوسرے گروہوں اور فرقوں اور جماعت کے فوائد کو نظر انداز کر دیا جاتا اور صرف انہیں لوگوں کو خاص حقوق کے جو اس کی اپنی قوم اپنے جتھے کے ہوتے۔اس طریق عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ قومی پاسداری یا دھڑا بندی کے خیالات لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو گئے۔اور یہ خیال ورثہ کے طور پر جو اپنے باپ دادوں سے اس ملک کے باشندوں کو ملے بِلاشبہ یہ بُرا ورثہ ہے۔اور جب تک اس کی اصلاح نہ ہو گی اس وقت تک جس قوم کے ہاتھ میں کوئی اختیار ہو گا وہ دوسروں کو مٹا دے گی۔اس کے افراد باپ دادوں کی طرف سے یہی دیکھتے چلے آئے ہیں کہ ہر ایک قوم کا فرد اپنی ہی قوم کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور دوسروں کی پرواہ نہیں کرتا اور جب کوئی قوم اس اختیار کے مل جانے پر دوسری قوموں کو مٹانے کی کوشش کرے گی لازماً فساد بڑھے گا اور جب فساد بڑھے گا تو امن اٹھ جائے گا۔اور ان کے اٹھ جانے کی صورتمیں ترقی کی کوئی امید نہیں ہو سکتی۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اس طریقہ کی اصلاح کی جائے کیونکہ جب تک اس طریقہ میں اصلاح نہ ہوگی اور لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنانہ سیکھیں گے نہ صرف یہ کہ اپنوں میں سے ایک دوسرے کی مدد نہ کریں گے بلکہ غیروں اور دوسری قوموں کے آدمیوں کی مدد نہ کریں گے اور ان میں مساوات کا مادہ موجود نہ ہو گا اور سیاسی رواداری کا جذبہ پیدا نہ ہو گا ترقی نہیں کر سکیں گے۔مذہبی رواداری کا فقدان دوسری وجہ جوان فسادات کی ہے اور جس کا اثر بھی بہت بڑا ہے وہ مذہبی رواداری کا فقدان ہے۔جس طرح اس ملک میں سیاسی رواداری نہیں اسی طرح مذہبی رواداری بھی نہیں۔لوگ برداشت ہی نہیں کر سکتے کہ کسی دوسرے مذہب کو اچھا کہہ سکیں بلکہ اُلٹا یہ خیال بیٹھ گیا ہے کہ جب تک ایک مذہب