انوارالعلوم (جلد 9) — Page 449
۴۴۹ ہوئے ہیں اور اپنی نظروں میں بھی گرے ہوئے ہیں لیکن افسوس کہ ہم اپنی عدالتوں پر جیسا کہ چاہئے غور نہیں کرتے۔اگر ہم غور کریں تو صاف نظر آ جائے کہ ہم سخت گرے ہوئے ہیں جس کی وہ ہی ہے کہ ہم بہت جلد شورشوں کا شکار بن جاتے ہیں غلط کوششیں ملک میں جو کچھ عرصہ سے فسادات ہو رہے ہیں ان کے دور کرنے کے لئے جو کوششیں اس وقت کی گئیں اور جس رنگ میں سعی کو کام میں لایا گیا جہاں تک میں نے غور کیا ہے یہی معلوم ہوا ہے کہ وہ صحیح نہیں۔وہ کوششیں غلط راستوں پر لے جاتی ہیں جن پر چلنے سے فسادات بڑھا کرتے ہیں مٹا نہیں کرتے۔ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی علاج بغیر تشخیص کے نہیں ہوتا اور صحیح علاج کے لئے معنے تشخیص کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔جہاں صحیح تشخیص نہیں ہوتی وہاں صحیح علاج بھی نہیں ہوتا۔جب ہم ان کوششوں پر نگاہ ڈالتے ہیں جو اس ملک سے فتنہ وفساد مٹانے کے لئے کی گئیں تو کہنا پڑتا ہے کہ وہ صحیح تشخیص پر مبنی نہیں تھیں۔چونکہ فسادات کی اصل وجہ ہی کی تشخیص نہیں کی گئی تھی اس لئے یہ ممکن نہ تھا کہ جو کوششیں فسادات کے مٹانے اور صلح کے پیدا کرنے کے لئے کی گئیں وہ کامیاب ہو تیں۔سو ایسا ہی ہوا۔سال دو سال کے لئے بظاہر امن کی صورت اور صلح کا رنگ پیدا ہو گیا مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایسی کوششیں صحیح اور درست طریق پر نہ تھیں اور ان کی کیفیت ایسی ہی تھی جیسی مرض کی تشخیص کئے بغیر اس کے علاج کرنے کی سعی کی جائے اس لئے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ عرصہ عارضی خاموشی رہی پھر فسادات بڑھ گئے اور وہ بات جو صلح کی شکل میں نظر آرہی تھی مٹ گئی اور باوجود تین چار سال تک وقت، طاقت، اثر اور روپیہ استعمال کرنے کے بھی اسے قائم نہ رکھا جاسکا صلح کے دو ناکام طریق اس وقت تک صلح کے لئے جو دو طریق استعمال کئے گئے ہیں وہ بالکل نادرست تھے۔ان میں سے پہلا طریق تو یہ تھا کہ ہمارے ملک کے سیاسی لیڈر جمع ہو جاتے اور کہہ دیتے آؤ صلح کر لیں۔جب ان کا آپس میں سمجھوتہ ہو جاتا تو اعلان شائع کر دیتے کہ صلح ہو گئی ہے۔حالا کے لیڈروں کے درمیان تو لڑائی پہلے سے ہی نہ تھی او نہ ہی لیڈروں کے درمیان لڑائی ہوا کرتی ہے۔لڑتے تو عام لوگ ہیں۔وہ سیاسی لیڈروں کے ایسے اعلانات کے باوجود کہ صلح ہو گئی ہے پھر بھی لڑتے رہے کیونکہ لڑائی محمد علی وشوکت علی صاحبان۔گاندھی جی اور پنڈت مالویہ کے درمیان نہ تھی۔لڑائی تو عوام کے درمیان تھی اور یہ ناممکن ہے کہ لڑیں تو عوام اور صلح کریں لیڈر۔اس طرح کبھی صلح نہیں ہو سکتی۔غرض چونکہ لیڈروں میں لڑائی