انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 448

۴۴۸ گیا۔یا تو وہ وقت تھا کہ جابجا اس قسم کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں اور اس قسم کے مضامین لکھے جا رہے تھے کہ ہم ایک ہیں اور ہم جدا نہیں ہو سکتے یا اب یہ حال ہے کہ وہ جو کہتے تھے ہم بھائی بھائی ہیں ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے اور ایک دوسرے کو وطن سے نکالنے کی تیاریاں کرنے لگے۔یہ اس لئے ہوا کہ ان کا اتفاق اور صلح صحیح بنیادوں پر نہیں تھی۔ترقی کے لئے امن کی ضرورت میرے نزدیک اس وقت تک کوئی مذہب ترقی نہیں کر سکتا، کوئی تمدن ترقی نہیں کر سکتا، کوئی سیاست ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ امن نہ ہو۔جس طرح کھیت بغیر پانی کے ہرا نہیں ہو سکتا اسی طرح ترقی بغیرامن کے حاصل نہیں ہو سکتی۔امن ترقی کے لئے اس پانی کی طرح ہے جس سے کھیت ہرا بھرا ہوا ہے۔غرض ترقی خواه مذہب کی ہو، خواہ ملک کی، خواہ سیاست کی ہو خواہ تمدن کی امن کے بغیر نہیں ہو سکتی اور بغیر امن کے کوئی ترقی نہیں کر سکتا۔چونکہ امن ترقی کا اصل ذریعہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں جتنے متمدن ممالک ہیں وہ فسادات کے مٹانے میں لگے ہوئے ہیں اور نہ صرف عام لوگ اپنے اپنے طور پر یہ کام کر رہے ہیں بلکہ وہاں کی پارلیمنٹیں اور وہاں کے ذمہ دار حکام بھی رات دن اسی کام پر لگے ہوئے نظر آتے ہیں کہ کسی طرح فسادات مٹائیں اور ترقی کریں۔ان ملکوں میں اس قسم کی تقریر یں کی جاتی ہیں جن سے امن کی خوبیاں لوگوں کے ذہن نشین ہوں اور لوگوں کو فسادات سے بچایا جائے۔ہندوستان کی بد بختی پھر ایک یہی بد بخت ملک ہندوستان ہے جس میں بجائے ایسی تقریریں کرنے کے جن سے امن قائم ہو اور لوگ امن کے سائے تلے ترقی کرتے چلے جائیں اس قسم کی تقریر یں کی جاتی ہیں کہ فسادات بڑھیں، قومی اور فرقہ وارانہ نفرتیں زیادہ ہوں اور ملک کا امن جاتا رہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بحیثیت ملک ہونے کے ہندوستان ترقی کرنے سے رُکا ہوا ہے کیونکہ جب کسی ملک کے باشندے ایک دوسرے کے برخلاف اپنی طاقتیں خرچ کریں گے تو ضرور ہے کہ ترقی کرنے سے رُکے رہیں۔ہمارے ملک میں اگر تمدن کو کسی مطلب کا سمجھا جاتا ہے تو نفرت پیدا کرنے کا ذریعہ ، اگر سیاست کو کسی کام کا خیال کیا جا تا ہے تو فتنہ و فساد کرانے کا آلہ، اگر سوسائٹیوں کو کسی مصرف کا سمجھا جاتا ہے تو فساد اور بدامنی پھیلانے کا ہتھیار۔غرض کیاتمدن، کیا سیاست، کیا سوسائٹی اور کیا مذہب سب کے سب فساد کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں اس وجہ سے ہماری حالت سخت خراب ہے۔ہم دوسروں کی نظروں میں بھی گرے