انوارالعلوم (جلد 9) — Page 447
ہندو مسلم فسادات ، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ہندو مسلم فسادات ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل (فرموده مورخہ ۲مارچ۱۹۲۷ء بمقام بریڈ لاء ہال لاہور زیر صدارت خان بہادر سر شفیع کے سی ایس آئی) الحمد لله رب العلمین الرحمن الرحيم و ملك يوم الدين ایا نعبد وایاک نستعین اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالین جیسا کہ آپ صاحبان کو معلوم ہے۔آج میں آپ لوگوں کے سامنے اس لئے کھڑا ہوا ہوں کہ ہندو مسلم فسادات کے بواعث، ان کا علاج اور مسلمانوں کے لئے آئندہ طریق عمل بیان کروں۔میرے نزدیک ہر وہ شخص جو خواہ کسی مذہب کے ساتھ تعلق رکھتا ہو، خواہ کسی ملت میں منسلک ہو، خواہ کسی عقیدہ اور کسی خیال کا ہو جسے کچھ بھی ہمدر دی اپنے ملک سے ہوگی بلکہ میں کہتا ہوں جس کے دل کے کسی گوشہ میں بھی ملک کی خیر خواہی کا احساس ہو گا بلکہ میں کہتا ہوں جس کے اندر ایک ذرہ بھر بھی دردمندی کا مادہ ہو گا وہ ان فسادات کے سبب ایک تکلیف دہ احساس محسوس کئے بغیر نہیں رہے گا۔ہندو مسلم اتفاق کاحشر ابھی چند سال کی بات ہے کہ پلیٹ فارموں پرسے یہ آواز بلند کی جاتی تھی کہ ہم بھائی بھائی ہیں ہم ایک وطن کے رہنے والے ہیں، ہمارے تعلقات کو کوئی بگاڑ نہیں سکتا، ملک کے خیر خواہ انسانوں کے لئے یہ آواز کیسی بھلی تھی اور اس سے کیسی لذت محسوس ہوتی اور کس قدر سرور حاصل ہوتا تھا۔مگر یہ آواز ہی تھی اور ایک عارضی وقت کے لئے تھی کیونکہ چند ہی دن یہ اتفاق اور صلح رہی اور پھر فتنہ و فساد پیدا ہو