انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 441

انوار العلوم جلد 9 ۴۱ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء بعض دوستوں کے مشترکہ سرمایہ سے قائم کیا گیا ہے اس کتاب کو شائع کیا ہے۔ دوستوں کو چاہئے کہ اس کو خرید کر پڑھیں۔ حق الیقین اس سال اللہ تعالی نے مجھے ایک اور کتاب کے لکھنے کی توفیق فرمائ ہے اور وہ کتاب ہفوات المسلمین کا جواب ہے۔ ہفوات المسلمین ایک شیعہ نے لکھی ہے جس کے مضمون سے حضرت نبی کریم ا اور آپ کی ازواج اور صحابہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُم کی ذات پر نہایت ناپاک حملے ہوتے ہیں اور ان کی اشاعت سے تمام ہندوستان میں اسلام کے خلاف خطرناک زہر پھیل رہا ہے۔ اور یوں کہنا چاہئے کہ اس نے ہندوستان میں ایک آگ لگادی تھی۔ اسی وجہ سے گورنمنٹ نظام نے اس کو ضبط کر لیا تھا لیکن اس کا اور بھی اُلٹا اثر پڑا کہ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ فی الواقع مسلمانوں کے پاس اس کا کوئی جواب ہی نہیں تب ہی تو اس کو ضبط کیا جا رہا ہے۔ اخبار اہل حدیث میں بھی اس کے جوابات نکلنے شروع ہوئے تھے مگر چند سوالوں کا جواب دے کر خاموشی اختیار کرلی گئی جس سے کتاب نے اور بھی ناجائز فائدہ اٹھایا اور مشہور کر دیا کہ معلوم ہوا کہ باقی مطالبات کا کوئی بھی جواب نہیں۔ اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس کا جواب لکھا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے اس کے جواب میں کتاب حق الیقین لکھی ہے۔ یہ کتاب بھی ایسی معلومات پر مشتمل ہے جو علمی بھی ہیں اور جو اسلام سے بہت گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ علاوہ اس کے مخالفین اسلام کے جوابات کے لئے نہایت مفید معلومات کا ذخیرہ اپنے اندر رکھتی ہے۔ علمی مباحثوں میں بھی کام آسکتی ہے اور اسلام کا مطالعہ کرنے کے لئے نہایت مفید ہے۔ احباب کو چاہئے کہ اس کو بھی بکثرت شائع کریں۔ انواحُ الہدی ان کے علاوہ بعض اور دوستوں کی بھی کتابیں ہیں جو نہایت مفید اور ضروری ہیں۔ ایک کتاب الواح الهدی بک ڈپونے شائع کی ہے۔ یہ کتاب قاضی اکمل صاحب کی مرتبہ ہے اور در حقیقت ریاض الصالحین کا ترجمہ ہے۔ ریاض الصالحین تربیت کے لحاظ سے ایک بے نظیر کتاب ہے۔ اور بالخصوص بچوں کی تربیت میں بہت مفید ہے۔ اسی بناء پر میں نے بچوں کی انجمن انصار اللہ کے لئے جو سکیم بنائی اس میں ضروری قرار دیا گیا کہ ہر طالب علم کے پاس تین چیزیں ضروری ہونی چاہئیں۔ ایک قرآن شریف دوسرے کشتی نوح تیسری ریاض الصالحین۔ دوسری جگہوں پر اس کتاب کی قیمت بھی زیادہ ہے۔ غالبا ایک روپیہ ہے اور یوں بھی عربی میں ہے جس کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔ اس لئے تجویز کی گئی ہے کہ کتاب کے بعض فقہی مسائل