انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 440

انوار العلوم جلد 9 ۲۰ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۳۶ء کر کے یہاں آتا ہے وہ اپنے نفس پر کیونکر جبر نہیں کر سکتا اور کس طرح وہ اپنے وقت کو چائے کی دکانوں اور باہر فضول پھرنے پر ضائع کر دیتا ہے۔ اگر چائے پر ہی وقت خرچ کرنا تھا تو وہ یہاں کی نسبت ان کے گھروں میں یا بڑے شہروں کے ہوٹلوں میں بہت اچھی مل سکتی تھی اور اگر یہاں ان کے آنے کی غرض سیر و تفریح تھی تو بہتر تھا کہ بجائے یہاں آنے کے بڑے بڑے شہروں کی سیر گاہوں میں جاتے۔ وہ دہلی چلے جاتے اور وہاں وائسرائے کے مکانوں، بادشاہی عمارتوں کو دیکھتے یا لاہور کی ٹھنڈی سڑک پر سیر کرتے۔ پھر لارنس گارڈن (باغ جناح) میں تفریح حاصل کرتے اور جب چائے کی خواہش ہوتی تو لورینگ ( قبل از تقسیم ہند لاہور کا ایک معروف ریستوران ) میں جاکر پی لیتے۔ لیکن یہاں آنے کی غرض تو خدا کی باتیں سننا ہے۔ اگر یہ غرض مد نظر نہیں تو پھر یہاں آنا بے فائدہ ہے۔ ہاں حاجات بھی انسان کے ساتھ بے شک لگی ہوئی ہیں اور ان کا پورا کرنا بہر حال ضروری ہے۔ حاجت کو روک کر تو نماز بھی جائز نہیں لیکن جب انسان کسی حاجت کی قضاء کے لئے جائے تو وہ حاجت پوری کر کے واپس بھی آسکتا ہے۔ جو دوست واپس نہیں آتے میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا خدا کے کلام سے اتنا ہی متاثر ہونا چاہئے کہ پیشاب کے لئے گئے تو واپس آنا ہی بھول گئے۔ جب ابھی یہاں ہی تمہارے اندر اثر کی یہ حالت ہے تو گھر پہنچنے پر تو بالکل ہی اثر جاتا رہے گا اور سب باتوں کو فراموش کر دو گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پانسو کے قریب غیر احمدی دوست بھی آئے ہوئے ہیں اور تین سو کے قریب دوسرے لوگ ہوں گے لیکن کل جلسہ گاہ سے اٹھنے والے دوست زیادہ تر احمدی ہی تھی۔ پس آج اپنی اصل تقریر شروع کرنے سے پہلے دوستوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ اگر وہ آرام اور اطمینان سے میری تقریر کو سننا چاہتے ہیں تو بیٹھ سکتے ہیں اور اگر درمیان میں بغیر حاجت کے اٹھ کر جاتا ہے تو بجائے اس وقت اٹھ کر جانے اور خلل اندازی کے ابھی ہی چلے جائیں تاکہ درمیان میں ان کے اٹھنے سے سامعین کو توجہ میں خلل نہ واقع ہو اور نہ ان کا وقت ضائع ہو۔ اس کے بعد میں چند ضروری متفرق امور کی طرف جو کل کی تقریر کا بقیہ ہیں آپ لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ منهاج الطالبین پہلی قابل توجہ بات یہ ہے کہ میں نے پچھلے سال نفس اور اولاد کی اخلاقی اور روحانی تربیت پر تقریر کی تھی۔ میرے نزدیک وہ لیکچر اپنے نفس کی اور اپنی آئندہ نسلوں کی روحانی اور اخلاقی اعلیٰ درجہ کی تربیت کے متعلق نہایت ہی اہم اور مفید ترین معلومات پر مشتمل ہے۔ یہ لیکچر چھپ کر کتابی صورت میں تیار ہو چکا ہے۔ بکڈ پونے جو کہ