انوارالعلوم (جلد 9) — Page 12
انوار العلوم جلد و ۱۲ افراد سلسلہ کی اصلاح و فلاح کے لئے دلی کیفیت کا اظہار ایسے موقع پر عجیب حالت ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص کے ہاں یہاں مردہ بچہ پیدا ہوا۔ اس شخص کی بیوی کو صرف خیال تھا کہ وہ زندہ پیدا ہوا ہے حالانکہ دایہ کہتی تھی کہ پیدا ہی مردہ ہوا ہے لیکن وہ دونوں میاں بیوی اس بچے کی قبر پر چھ ماہ تک جاتے رہے مگر میں نے اپنے پانچ بچوں پر باوجو د طبعی اثرات کے بھی محسوس نہیں کیا۔ اس میں شک نہیں کہ بعض اوقات میں رویا ہوں اور شدید رویا ہوں مثلاً حضرت مولوی عبد الکریم کی وفات پر اور حضرت خلیفہ اول کی وفات پر۔ صرف اس لئے کہ وہ سلسلہ کے لئے بطور ستون تھے اور ان پر رونا مردوں پر رونا نہیں تھا بلکہ در حقیقت وہ زندوں پر رونا تھا جو ان فوائد سے محروم ہو گئے تھے جو ان وجودوں سے پہنچ رہے تھے ۔ اسی طرح میں امتہ الحی پر بھی ضرور رویا لیکن پچھلوں کے لئے جن کے متعلق میرا خیال تھا کہ ان کے سر پر سے ایک مفید وجو د اٹھ گیا۔ اس کی وفات کے متعلق تو مجھے پہلے سے ہی اطلاع ہو گئی تھی ۔ تین سال ہوئے کہ میں نے خواب دیکھا کہ وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے میرے پاس آئی ہے اور السلام علیکم کہہ کر کہنے لگی میں جاتی ہوں"۔ اور اس کے بعد جلدی جلدی گھر سے نکل گئی۔ میں نے میر محمد اسماعیل صاحب کو اس کے پیچھے روانہ کیا تو انہوں نے واپس آکر بتایا کہ وہ بہشتی مقبرہ کی طرف چلی گئی ہیں۔ اسی طرح سفر میں واپسی کے وقت جہاز میں رویا دیکھی کہ سمندر کی طرف سے ایک عورت کی نہایت درد ناک چیخوں کی آواز آرہی ہے۔ میں نے اس کو وہاں جہاز میں حافظ روشن علی صاحب اور دوسرے دوستوں کے سامنے بیان کیا اور یہ واقعہ قریباً بیداری کا تھا۔ اسی طرح وفات سے دو دن پہلے دیکھا کہ حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول تشریف لائے ہیں اور میرے پاس چارپائی پر بیٹھ گئے ہیں۔ ان کا رنگ بالکل زرد ہے۔ آپ نے میرے پاؤں کی جراب کو پکڑا اور فرمایا یہ جراب تو بالکل بوسیدہ ہو گئی ہے۔ پھر اس میں سے ایک دھاگا نکالا اور اسے ذرا کھینچا تو وہ بالکل ٹوٹ گیا اور کچھ روئی سی نکل آئی اور فرمانے لگے یہ تو بالکل ہی بوسیدہ ہے ۔ دیکھو اس کے تو دھاگے بھی اب بوسیدہ ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا یہاں علاج نہیں ۔ ولایت میں تو اس کا علاج ہو سکتا ہے۔ اس سے بھی میں نے یہی نتیجہ نکالا کہ وفات کے دن اب بالکل قریب معلوم ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب پر بھی اس واقعہ کا اثر ہوا ہو گا۔ جو ان کے زرد رنگ سے معلوم ہوتا ہے۔ جراب سے مراد بیوی ہی تھی جو اس حد تک کمزور ہو گئی تھی کہ اب وہ بچ نہیں سکتی تھی۔ ہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ولایت میں ایسی امراض کا علاج ہو سکتا ہو گا۔ یا شاید اس کا کوئی اور مفہوم