انوارالعلوم (جلد 9) — Page 428
انوار العلوم جلد و ۴۲۸ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء جواب دیا۔ تنگ گلی میں چاروں طرف کانٹے ہوں اور زمین پر کنکر ہوں تو بتاؤ ایسے رستہ سے تم کیونکر گزرو گے۔ اس نے کہا کپڑے چاروں طرف سے سمیٹ کر ہی گزروں گا۔ یہ بظاہر چھوٹی سی بات ہے لیکن در حقیقت بہت لطیف بات ہے۔ اسی طرح ایک بزرگ نے کہا کہ چھوٹی باتوں کو بڑا سمجھو۔ یعنی چھوٹے گناہوں کو بڑا سمجھو۔ یہ پہاڑ جو نظر آتے ہیں ذرات سے ہی بنے ہیں۔ پس مؤمن ہر ایک حرکت میں یہ دیکھے کہ میری اس حرکت کا مجھ پر اور میری قوم پر کیا اثر پڑے گا۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ تقویٰ کے حصول کے ذرائع کیا ہیں میں تقویٰ پر کوئی خاص مضمون بیان نہیں کرتا بلکہ انہیں باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں۔ تقویٰ کے معنے ہیں کہ انسان خدا کو اپنی ڈھال بنائے۔ یہ لفظ وقایہ سے نکلا ہے جس کے معنے بچاؤ اور حفاظت کے ہیں۔ تو تقویٰ کے معنے ہوئے کہ انسان اپنے اندر ایسی حالت پیدا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کا محافظ ہو جائے۔ اب غور کرو خدا کیوں محافظ بنے گا۔ اس کی کوئی وجہ ہوئی چاہئے۔ انسان کسی شخص کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ ہم جانتے ہیں کہ ہم سب سے زیادہ حفاظت اس کی کرتے ہیں جو ہمارا کام کرتا ہے۔ جس کو ہم جانتے ہیں کہ اس کے نقصان سے ہمیں نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح ہم کو یہ معلوم کرنا چاہئے کہ ہم کونسے کام کریں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالٰی ہمارا محافظ ہو جائے۔ تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک ذریعہ تو اللہ تعالی کی حفاظت میں آنے کا اور تقویٰ کے حصول کا وہ یہ ہے کہ انسان کلمۃ اللہ کے اعلاء میں لگ جائے۔ اس کی شان کا اظہار کرے۔ اسی طرح جب وہ کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ یقینا اس کی حفاظت کرے گا۔ اس کو ایسی راہوں پر چلائے گا کہ جن پر چلنے سے اس کی حفاظت ہو گی۔ اب سوال یہ ہے کہ اعلاء کلمتہ اللہ کس طریق سے ہو۔ بعض کام اللہ تعالیٰ جبر سے کرتا ہے اور بعض ربوبیت سے۔ سب سے پہلا کام اللہ تعالی کا ربوبیت اس کی پہلی ہے۔ جیسا کہ سورۃ فاتحہ میں آیا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ " اس میں اس صفت ربوبیت کی بیان ہے۔ اب انسان بھی اپنے ذریعہ سے اس کی صفت ربوبیت کی شان کا اظہار اور اس کے کلمہ کا اعلاء کر سکتا ہے کہ جب وہ اس کی طرح ربوبیت کی صفت اپنے اندر پیدا کرے یعنی انسان پہلے مجازی رب بنے تب اللہ تعالٰی اس کے دل میں تقوی ڈالے گا۔ اب میں ربوبیت کے معنے بیان کرتا ہوں۔ ربوبیت ربوبیت کے معنے یہ ہیں کہ انسان دوسروں کی بھلائی اور تربیت میں لگ جائے اپنی زندگی کو اپنے نفس کی بھلائی کے لئے نہ سمجھے بلکہ مخلوق کی ہمدردی میں اپنی زندگی کو لگا دے۔ جب یہ ایسے کاموں میں لگ جائے گا تو اللہ تعالی اسکی حفاظت