انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 414

انوار العلوم جلد و تقاریر جامه سالانه ۱۹۳۶ء ہو اپنی مدد کے لئے ہماری طرف رخ کیا حتی کہ ایک پیر نے میری طرف لکھا کہ پیروں میں سے ایک نمائندہ منتخب ہونا چاہئے۔ چونکہ آپ بھی پیر ہیں اس لئے میرے حق میں ووٹ دلوائیں۔ میں نے اسے جواب دیا کہ پیروں کا کام گدیوں پر ہے کو نسلوں میں نہیں۔ آپ کو نسل سے باہر قومی مدد کر سکتے ہیں۔ غرض اس ذریعہ سے بھی ہماری جماعت کی خاص عظمت قائم ہو گئی ہے کیونکہ ہماری جماعت کی مدد سے ۱۶ مسلمان کو نسل کے ممبر منتخب ہوئے ہیں۔ جماعت کی طاقت کا اس سے اندازہ سکتا ہے۔ میرے پاس ایک بڑا آدمی پہنچا اور اس نے کہا کہ آپ اپنی جماعت کو میرے حق میں بھی ووٹ دینے کے لئے ارشاد کریں۔ میں نے کہا کہ ہم چونکہ دوسرے آدمیوں کے حق میں ووٹ دینے کا وعدہ کر چکے ہیں اس لئے اب ہم آپ کے لئے ووٹ دینے سے معذور ہیں۔ پھر جب انہوں نے بہت اصرار کیا تو میں نے کہا آپ ہماری طرف اتنا کیوں رخ کرتے ہیں۔ آپ دو میرے لوگوں سے مدد لے سکتے ہیں تو وہ کہنے لگا کہ آپ کے ووٹروں میں دو باتیں ہیں جو اوروں میں نہیں اس لئے ہماری نظریں آپ کی جماعت کی طرف ہی اُٹھتی ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ بات ہے کہ آپ کے ووٹر آپ کے مشورہ سے خود میرے پاس چل کر آئیں گے لیکن دوسری جگہ تو ایک ایک ووٹر کے گھر پر ہمیں جانا پڑے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ دوسرے ووٹر اگر آٹھ ہزار بھی میرے حق میں ووٹ دینے کا وعدہ کریں تو مجھے ان پر اعتبار نہ ہو گا مگر آپ کے ووٹ اگر ۲۰۰ ہوں۔ تو میں اپنے لئے ۲۰۰ کے ۲۰۰ ہی ووٹ سمجھوں گا۔ تیسری بات یہ ہے کہ دوسرے دوٹر تو ہم سے آکر کچھ مانگتے ہیں اور ہمیں ان کو اپنے پاس سے کھانا وغیرہ دینا پڑتا ہے مگر آپ کے لوگ مفت کام کرتے ہیں۔ ایک نے بیان کیا کہ آپ کے آدمی صرف خود ہی ووٹر نہیں بنتے بلکہ دوسروں کو بھی ووٹر بنا لیتے ہیں اور تمام علاقہ کو سنبھال لیتے ہیں۔ ان وجوہات کے باعث اس دفعہ بڑے بڑے آدمی خود ہمارے پاس بار بار چل کر آئے جو ہمیں بالکل حقیر خیال کرتے تھے۔ اور واقعہ بھی ایسا ہی ہوا کہ سوائے ایک ممبر کے باقی سارے کے سارے کہ جن کی ہم نے تائید کی انتخاب میں کامیاب ہو گئے۔ یہ اتحاد اور اخلاص کی طاقت ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ جس اتحاد اور اخلاص سے ہم نے موجودہ الیکشن میں کام کیا ہے۔ اگر آئندہ بھی اسی طرح کام کیا تو تین چار الیکشنوں میں قریباً تمام بڑے بڑے آدمیوں کی توجہ ہماری طرف ہوگی اور اس کے نتیجہ میں کئی فوائد بھی ہمیں حاصل ہونے کی اُمید ہے۔ چنانچہ پچھلے دنوں سردار جو گندر سنگھ صاحب وزیر زراعت پنجاب یہاں آئے تو وہ اس اہمیت کی بناء پر ہمارے ہاں ہی ٹھہرے اور مجھ سے بھی ملے۔ ملاقات کے دوران میں بٹالہ والی سڑک کا بھی ذکر آگیا جس پر