انوارالعلوم (جلد 9) — Page 410
انوار العلوم جلد 9 ۴۱۰ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۳۶ء لئے بہتر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سعودیوں میں سختی اور وحشت بھی ہے مگر باوجود اس کے وہ علم کے خواہشمند ہیں۔ ان میں علم کا چرچا ہے اس لئے ان کے حکومت پر رہنے سے ملک میں علم کا چرچا ہو جائے گا۔ اور عرب وحشت و جہالت سے بھی آزاد ہو جائے گا۔ دوسرے ان کے پاس سپاہی ہیں جو گھر سے کھا کر لڑنے والے ہیں۔ ملک کے لئے قربانی کرنے والے سپاہی ہیں۔ ایسے لوگوں کی اگر حکومت قائم رہے تو عرب بہت جلدی اعلیٰ درجہ کی ترقی پر پہنچ سکتا ہے۔ ہاں ایک خوف ہے کہ وہ روضہ رسول اللہ کو نہ کہیں گرا دیں۔ اگرچہ امید تو یہی ہے کہ خود ابن سعود اس کی حفاظت کرے گا۔ مگر اس کے ساتھی شاید اسے حفاظت میں کامیاب نہ ہونے دیں۔ اور اس کی حفاظت کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ ان کو یہ یقین دلایا جائے کہ ہم آپ لوگوں کے دوست اور خیر خواہ ہیں۔ اور یہ اس صورت میں ہے کہ آپ روضہ کی حفاظت کریں۔ باقی گالیاں دینا فضول بات ہے۔ گالیوں سے وہ ڈر تو نہیں جائے گا۔ ہاں محبت اور نرمی سے اسے سمجھا سکتے ہیں۔ شردھانند صاحب کے قتل کی نسبت میں اور بات کہنا چاہتا حفاظت و اشاعت اسلام ہوں کہ ان کے مختل۔ قتل سے ہماری جماعت پر بہت بڑی ذمہ داری - عائد ہوتی ہے۔ جن قوموں میں زندگی ہوتی ہے وہ جسم سے زندہ نہیں ہوتیں۔ وہ روح سے زندہ ہوتی ہیں۔ شردھانند کے قتل نے ہندو قوم کی روح کو زندہ کر دیا ہے۔ پشاور سے لے کر کلکتہ تک کے تمام ہند و بلا امتیاز متفق ہو گئے ہیں کہ ہم سارے مل کر شردھانند کے کام کو جاری رکھیں گے۔ اپنی جانیں اور روپیہ شدھی میں خرچ کر ڈالیں گے۔ اس میں تمام وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس کی موت سے پہلے اس کے مخالف تھے۔ اس کے کام کے مخالف تھے۔ اس کے مارے جانے کے ساتھ ممکن ہے کہ پچاس یا سو سال اور زندگی ہندو قوم کو مل جائے۔ وہ مولوی جن کے فتوؤں اور تحریکوں سے یہ واقعہ ہوا وہ تو گھر میں خوش ہو رہے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ بڑا اچھا کام ہوا۔ وہ قاتل کیسا خوش قسمت اور اسلام کا خادم ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کے فتوؤں کی بدولت اسلام کس خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ اسلام کے لئے تاریک دن ہمارے سامنے آگیا ہے۔ اس کی مصیبت کا زمانہ پھر شروع ہو گیا ہے اس لئے سارا بوجھ ہماری گردنوں پر آپڑا ہے۔ ہماری تو وہی مثال ہے ۔ اغیار کا بھی قضیہ چکانا پڑے ہمیں غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہمیں اب اسلام پر جو حملہ ہو گا اس کا دفعیہ بھی ہمیں کرنا پڑے گا۔ شردھانند کا کام یہ تھا کہ ہندو مذہب کی ترقی اور اشاعت ہو۔ اس کے ایک دفعہ مرنے پر تمام ہندو اس کے کام کو پہلے سے بہت