انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 407

انوار العلوم جلد 9 ۴۰۷ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء ہو۔ اسے کوئی اور طاقت مجبور نہ کرے۔ اس شخص کو مجبور کرنے والی وہ زبردست طاقت تھی کہ جس کا انسان مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور وہ عقیدہ کی طاقت ہے۔ یہ ایسی زبردست طاقت ہے کہ انسان آگ میں کود سکتا ہے۔ سمندر میں پڑ سکتا ہے۔ پہاڑ سے ٹکرا سکتا ہے۔ لیکن اس طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور اس عقیدہ کے قائم کرنے والے علماء اور مسلمانوں کے لیڈر ہیں۔ پس شردھانند کے قاتل، خلافت کمیٹیوں اور دیوبندی علماء اور زمیندار کے مضامین ہیں کہ کافروں کا قتل جائز ہے۔ وہ آرام کرسیوں پر بیٹھ کر اس قسم کے مضامین لکھنے والے کہ اسلام کے لئے قتل ضروری ہے اس کے قائل ہیں۔ آج کس طرح ہندوستان کے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ تک شور اٹھا ہوا ہے کہ اس خون میں سختی سے کام لیا گیا۔ مگر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ فعل ایسا ہی بڑا ہے کہ جس پر آج تم اسقدر اظہار نفرت کی آواز اُٹھا رہے ہو تو اس وقت تم نے کیوں نہ آواز اٹھائی جبکہ ہمارے آدمی محض اس لئے مارے گئے کہ وہ خدا کے دین پر قائم تھے اور تم سے بڑھ کر وہ اسلام پر قائم تھے۔ اور آج تم ایک آریہ لیڈر کے قتل کو ظالمانہ فعل قرار دیتے ہوئے نفرت کی آواز بلند کرتے ہو یہ بتاتا ہے کہ تمہاری طرز منافقانہ طرز ہے۔ پس اگر واقعہ میں یہ فعل ظالمانہ فعل ہے اور اس قابل ہے کہ اس پر اظہار نفرت کیا جائے۔ اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے تو کابل کی سرزمین میں تمہاری آواز کیوں نہ اُٹھی۔ اگر اس وقت تم نے مبارکبادی کی تاریں دی تھیں تو آج تمہیں کس طرح لوگ سچا سمجھ سکتے ہیں۔ آج تم محض ہندوؤں کے ڈر سے جھوٹ بولتے ہو۔ در حقیقت تمہارے دل اس فعل پر خوشیاں منا رہے ہیں۔ میں نے اُس وقت تم سے اپیل پر اپیل کی تھی کہ دیکھو اگر اس وقت تم اظہار نفرت نہ کرو گے تو دنیا سے امن اٹھ جائے گا۔ انسانی زندگی جو ذی حرمت چیز ہے خطرہ میں پڑ جائے گی لیکن تم نے بجائے اظہار نفرت کرنے کے خوشی کا اظہار کیا اور اسلام کی تعلیم کے مطابق ثابت کرنا چاہا۔ جس کا آج یہ نتیجہ دیکھ رہے ہو۔ ہم نے تو اپنی عزیز جانیں صرف اس لئے دی تھیں کہ آئندہ دنیا میں امن قائم ہو لیکن انہوں نے سمجھا کہ ہم اپنی جانیں بچانے کے لئے کہتے ہیں۔ خدا تعالی جانتا ہے کہ ہماری جانیں تو اس کے لئے ہیں اور ہم اس کی راہ میں موت سے بہتر کوئی چیز نہیں دیکھتے۔ اس سے بہتر کونسی موت ہو سکتی ہے جو اللہ تعالی کے رستہ میں اور اس کے دین کی راہ میں آئے۔ ہم نے اس بات کو اپنی جانیں دے کر دکھا بھی دیا۔ لیکن ہمیں تو یہی نظارہ نظر آ رہا تھا کہ آج جو ہمارے قتل کے فتوے دے رہے ہیں اور ہمارے قتل ہونے پر خوشیاں مناتے