انوارالعلوم (جلد 9) — Page 406
انوار العلوم جلد 8 ۲۰۶ تقاریی جلسه سالانه ۱۹۲۶ء بہار بھی اسی طرح ہوا۔ گو یہ پیشگوئی کے مطابق ہوا لیکن یہ صحیح نہیں کہ جو بات پیشگوئی کے مطابق ہو وہ ضرور ا چھی ہوتی ہے۔ مثلا یہ پیشگوئی کہ نبی کی مخالفت ہو گی۔ اس پر استہزاء کیا جائے گا۔ لیکن باوجود اس کے اس کی مخالفت اور استہزاء اچھی بات نہیں۔ پھر یہ بھی پیشگوئی ہوتی ہے کہ فلاں شخص دین کی راہ میں مارا جائے گا۔ اور ایک شخص کے ناحق مارے جانے کی خبر دی جاتی ہے۔ بہر حال اس فعل کے اندر بعض بھیانک باتیں ہیں جن کے باعث ہم اظہار نفرت کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہ ایسا ظالمانہ اور ناپاک خیال ہے کسی کو محض کافر ہونے کی وجہ سے قتل کرنا) کہ اس سے بڑھ کر نا پاک نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ شخص نہ صرف خود بڑا فعل کرتا ہے بلکہ مذہب کو بھی بدنام کرتا ہے۔ جو قوم اس لئے مارتی ہے کہ اُس کے مذہب پر لوگ حملہ کرتے ہیں وہ گویا ثابت کرتی ہے کہ اس کا مذہب تلوار کا محتاج ہے اس میں خوبی نہیں۔ وہ اپنی خوبی کے زور سے نہیں پھیل سکتا بلکہ تلوار کے زور سے پھیلتا ہے۔ اور ایسا مذہب تو خود اس لائق ہے کہ اسے دنیا سے مٹا دیا جائے۔ لیکن اسلام کی اشاعت تلوار سے نہیں ہوئی ہے۔ جو شخص اسلام کے لئے تلوار اٹھاتا ہے وہ اسلام کا دشمن ہے۔ اس لئے ہم اس فعل کی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے نہایت حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس نے قوم اور ملک کے امن کو برباد کر دیا ہے اور دین اسلام کو بد نام کر دیا ہے۔ ہماری قوم نے بیڑا اٹھایا ہے کہ محبت کے ذریعہ حق کو پھیلایا جائے گا۔ نرمی کے ذریعہ حق کو قائم کیا جائے گا اس لئے ہمیں سب سے زیادہ اس فعل پر اظہار نفرت کرنا چاہئے۔ ہماری قوم ہی ہے کہ جس نے پانچ آدمی محض اس لئے دے دیتے ہیں کہ مذہب کے نام پر دنیا کے امن کو برباد نہ کیا جائے۔ ہمارے پانچ آدمی کے صرف اس لئے سنگسار کئے گئے کہ وہ کہتے تھے کہ مذہب کے لئے جہاد جائز نہیں۔ آج صرف ہم صرف ہم ہی یہ دعویٰ سے کہہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے عزیز دوستوں نے محض اسی غرض سے تکلیف کے ساتھ جان دے دی کہ مذہب کو امن سے پھیلایا جائے۔ کابل کی سرزمین گواہ ہے۔ ہمارے عزیز دوستوں کی لاشیں نہیں کابل کے پتھر اور ہزاروں پتھر گواہی دے رہے ہیں کہ ہم مذہب کے معاملہ میں زبر دستی اور ظلم کو جائز نہیں سمجھتے۔ اس واقعہ میں بھی ہم کہتے ہیں کہ قاتل اس فعل کا ذمہ دار نہیں۔ وہ مجبور ہے، وہ معذور ہے، اسے اس قتل پر مجبور کیا گیا کیونکہ قتل جیسے فعل کو انسانی فطرت قبول نہیں کرتی بلکہ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انسان اس قسم کے فعل کا مرتکب نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجبور نہ