انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 381

۳۸۱ ہی نہیں۔میرے نزدیک شیعوں میں بھی چ بولنے والے موجود ہیں جس طرح کہ ہندوؤں اور مسیحیوں اور یہودیوں اور سکھوں اور اہل سنت میں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جس قوم میں روحانیت زیادہ ہو گی اس کے زیادہ افراد با اخلاق ہوں گے اور اس کا معیار اخلاق بھی بالا ہو گا لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دنیا کی ہر قوم میں ایسے لوگ موجود ملیں گے جو ایک حد تک اخلاق کے پابند ہوں گے اور بڑی بڑی بدخُلقیوں سے پاک ہوں گے۔ای طرح خواہ کوئی مذہب کتناہی تصرف اپنے پیروؤں پر رکھتا ہو اس کے پیروؤں میں ایسے لوگ ضرور پائے جائیں گے جو بد اخلاقیوں کے مرتکب ہوں گے اور انسانیت کا جامہ پھاڑ چکے ہوں گے۔پس میں بوضاحت بتادینا چاہتاہوں کہ میں ہرگز کسی قوم کو جو میرے ساتھ مذهباً اختلاف رکھتی ہو اخلاق سے عاری نہیں سمجھتا اور نہ خیال رکھتا ہوں کہ جو لوگ میرے ہم خیال یا ہم مذہب ہیں وہ تمام کے تمام بلا استثناء بدیوں اور گناہوں سے پاک ہیں اور ان میں کوئی بھی بدخُلقی نہیں پائی جاتی مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ اگر کسی قوم میں یہ عقیدہ ہو کہ انسان اپنے عقیدہ اور یقین کے خلاف ضرورت وقت کو مدنظر رکھ کر بیان کر سکتاہے عمل پیرا ہو سکتا ہے وہ قوم بہت زیادہ اس خطرہ میں ہے کہ اس کے کمزور اور ضعیف الاخلاق لوگ جھوٹ اور فریب کی مرض میں مبتلاء ہو جائیں اور میں سمجھتا ہوں کہ بعض اہل شیعہ نے اس قسم کا عقیده ایجاد کر کے اپنے ہم مذہبوں پر ایک اخلاقی ظلم کیا ہے اور دوست بن کر دشمنوں کا کام کیا ہے۔مگر میں فطرت انسانی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہتا ہوں کہ اکثر اہل شیعہ یقیناً اس خیال سے نفرت رکھتے ہوں گے اور ائمہ اہل بیت کو اس ناپاک خیال سے پاک سمجھتے ہوں گے اور اس گند کو ان کی طرف منسوب نہیں کرتے ہوں گے بلکہ یقین رکھتے ہوں گے کہ بعض نادان لوگوں نے یہ باتیں بعد میں گھڑی ہیں نہ توائمہ اہل بیت نہ کبار شیعہ اس جرم کے مرتکب ہو سکتے ہیں مگر بہرحال چونکہ بعض لوگوں نے اس کا عقیدہ گھڑا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اہل شیعہ میں سے اہل سنت کی نسبت بہت زیادہ لوگوں کو جھوٹی حدیثیں بنانے کا موقع مل گیا ہے اور ان میں سے بعض نے افسوس سے کہنا چاہئے کہ اہل سنت کا جامہ پہن کر شیعیت کے عقائد کو پردے پردے میں اہل سنت کی روایات میں داخل کرنا چاہا ہے۔میں کہہ چکا ہوں کہ ائمہ اہل حدیث کا طریق یہ تھا کہ وہ احادیث کے لئے ایک خاص معیار مقرر کر کے جو حدیث اس معیار کے مطابق ان کو پہنچتی تھی وہ اسے روایت کر دیتے تھے۔گو ان