انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 380

۳۸۰ کہ عرب میں مہاجرین بھی شامل تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اسی طرح عرب کے لفظ کے عام معنی کرنے ہیں تو پھر عرب میں حضرت علی کے اپنے رشتہ دار بھی اور تمام بنو ہاشم اور بنو مُطّلب بھی شامل تھے مگر یہ کوئی نہیں کہتا کہ اس بات کا یہ مطلب تھا کہ حضرت عباس اور عقیل بھی حضرت علی کے مقابلے کے لئے کھڑے ہو جائیں گے۔مصنف کے ترجمہ کی اپنی غلطیوں کی طرف اشارہ کر کے جو اپنی وضع سے بتا رہی ہیں کہ جان بوجھ کر اپنے مضمون کو زور دار بنانے کے لئے کی گئی ہیں اب میں اس حدیث کی حقیقت پر روشنی ڈالتا ہوں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث کے بعض حصے نہایت قابل اعتراض ہیں اور اگر وہ ثابت ہوں تو حضرت عمر پر اعتراض آتا ہے اور اگر نہ ثابت ہوں تو حدیث جھوٹی قرار پاتی ہے میں اس امر میں مصنّف ہفوات سے بالکل متفق ہوں کہ یہ حدیث بالکل جھوٹی ہے لیکن اس کا اثر علمائے اہل سنت پر کچھ نہیں پڑتا کیونکہ یہ حدیث اہل سنت کی کتب معتبرہ میں سے نہیں ہے بلکہ اس کا اول راوی ایک ایسا شخص ہے جو گونہ سنی کہلا سکے اور نہ شیعہ مگر اس کی طبیعت کا اصل رجحان شیعیت کی طرف ہے۔پس اول تو جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں بعض حدیثوں کے جھوٹا ثابت ہونے سے نہ علم حدیث پر اور نہ علمائے اہل سنت پر کوئی حرف آسکتا ہے۔دوم یہ حدیث اہل سنت کی کتب سے نہیں شروع ہوئی اس کی ابتداء ان لوگوں سے شروع ہوئی ہے جو شیعیت کی طرف راجح ہیں۔پس اگر اس سے کسی پر الزام لگ سکتا ہے تو شیعوں پر۔سوم میں جہاں تک سمجھتا ہوں یہ حدیث ان بعض شیعوں کی بنائی ہوئی ہے جو جھوٹ کو اپنی تائید کے لئے جائز سمجھتے ہیں اور تقیہ کو دین کا ایک جزو قرار دیتے ہیں۔اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ احادیث پر ایک مجموعی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض امل شیعہ نے ظلماً اپنے مقاصد کے حصول کے لئے جھوٹی حدیثیں اہل سنت سے بیان کی ہیں تاکہ ان کی کتب سے اپنے مطلب کی روایات پیش کر سکیں۔ایسی کئی حدیثیں ہیں جن کو درایتاً اور روایتاً انسان جھوٹاماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اور پھر ساتھ ہی اس کو یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ یہ اہل سنت کی بنائی ہوئی نہیں ہیں بلکہ اہل شیعہ کی ہیں۔میرا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ اہل سنت لوگوں میں ایسا کوئی شخص نہیں گزرا جس نے جھوٹی حدیث بنائی ہو یا یہ کہ شیعہ لوگ مذہباً جھوٹ بولتے ہیں۔حاشا و کلا اس سے زیادہ میرے ذہن سے اور کوئی بات دور نہیں ہو سکتی۔میں طبعاًٍ اور اخلاقاً اور مزہباً اس امر کا مخالف ہوں کہ کسی قوم کو محض اختلاف عقائد کی وجہ سے ایسا سمجھ لیا جائے کہ اس میں گویا اخلاقی طور پر کوئی نیک