انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 371

انوار العلوم جلد 9 ۳۷۱ حق اليقين خو محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔ کیونکہ کنز میں لکھا ہے کہ حرکت سے نماز ٹوٹ جاتی ہے نادان مصنف ہفوات بھی اس پٹھان کی طرح نہیں جانتا کہ شریعت کے احکام کا بیان کرنا رسول کا کام ہے نہ مصنف ہفوات جیسے لوگوں کا جو کنویں کے مینڈک کی طرح ایک محدود دائرے میں چکر لگاتے رہتے ہیں اور قانون قدرت کی وسعت اور احکام شریعت کی غرض اور غایت سے ایسے ہی نابلد ہیں جیسے کہ ایک جانور ایجادات انسانیہ سے۔ خدا کے رسول نے جب ایک کام کر کے دکھا دیا تو اس کے خلاف جو مسئلہ کوئی بیان کرتا ہے وہ لغو اور بے ہودہ ہے اور اس سے اس مسئلہ کے بیان کرنے والے کی جہالت اور حماقت سے زیادہ اور کچھ ثابت نہیں ہوتا سوائے اس صورت کے کہ اس سے نادانستہ ایسا مسئلہ بیان ہوا ہو جو اقوال وافعال رسالت مآب کے خلاف ہو۔ مصنف ہفوات کو یاد رکھنا چاہئے کہ خوش الحانی سے شعر پڑھنا یا سننا ایک فطرتی تقاضا ہے اور بچپن سے اس کی لذت روح انسانی میں رکھی گئی ہے اور اسلام دین الفطرت ہے۔ خدا کا کلام اور اس کا فعل مخالف نہیں ہو سکتے۔ جس خدا نے یہ جذبہ انسان کے اندر رکھا ہے وہ اس جذبہ کے صحیح استعمال سے اسے روک نہیں سکتا تھا۔ باقی رہا دوسرا سوال کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ کو حبشیوں کا ناچ کیوں دکھایا اور غیر محرم پر نظر کیوں ڈلوائی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں اعتراضات بالکل باطل اور جھوٹے ہیں۔ نہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ کو ناچ دکھایا اور نہ غیر محرموں پر نظر ڈلوائی ہے۔ اور مصنف ہفوات نے دیدہ و دانستہ یہ اعتراض کیا ہے کیونکہ جو احادیث انہوں نے نقل کی ہیں وہی ان اعتراضات کو رد کر رہی ہیں۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ وَكَانَ يَوْمُ عِيْدٍ يَلْعَبُ السُّوْدَانُ بِالدَّرَةِ وَالْحِرَابِ فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا قَالَ أَتَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَأَقَامَنِى وَرَاءَهُ خَدِى عَلَى خَدِهِ وَهُوَ يَقُولُ دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةً حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ قَالَ حَسْبُكِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاذْهَبي - ۱۴ یعنی عید کا دن تھا۔ اور حبشی لوگ ڈھالوں اور برچھوں سے کرتب کر رہے تھے مجھے یاد نہیں کہ میں نے خود کہا یا رسول اللہ ا نے فرمایا کہ کیا تو دیکھنا چاہتی ہے؟ اس پر عائشہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ پس آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اور آپ کی گال کے ساتھ میری گال لگی ہوئی تھی پھر آپ نے فرمایا اپنا کام کئے جاؤ اے بنوا رندہ! یہاں تک کہ جب میں ملول ہو گئی آپ نے فرمایا بس ؟ میں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا اچھا جاؤ۔