انوارالعلوم (جلد 9) — Page 369
انوار العلوم جلد 9 ۳۶۹ حق اليقين کے گھر گئیں بہر حال یہ اعتراض تو قائم رہا کہ آنحضرت ا کی ایک بیوی بلا اذن خلاف شریعت کے طور پر دوسری بیوی کے گھر میں چلی گئیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض اس وقت پڑ سکتا ہے جب کہ حقیقت سے آنکھیں بند کرلی جائیں۔ لیکن ان واقعات کو مد نظر رکھ کر جن کے ماتحت یہ معاملہ ہوا ہے اعتراض تو پڑتا ہی نہیں یا اس کا وہ وزن نہیں رہتا جو اس کو دیا گیا ہے۔ وہ واقعہ جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے اس طرح ہے کہ آنحضرت ا کی ازواج مطہرات کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جو لوگ هدایا لاتے ہیں وہ اس دن تک انتظار کرتے رہتے ہیں جس دن کہ حضرت عائشہ کے گھر میں آنحضرت ا کی باری ہو۔ اور یہ بات ان کو طبعاً ناگوار گزری۔ اس پر انہوں نے مشورہ کر کے حضرت فاطمہ کو آنحضرت ا کے پاس بھیجا کہ آپ یہ اعلان کر دیں کہ جو لوگ ھدایا لاتے ہیں سب بیویوں کی باری میں مساوی طور پر لایا کریں حضرت عائشہ کی خصوصیت نہ مد نظر رکھا کریں۔ اس امر کا اعلان اس شخص کی طرف سے جس کے پاس ھدایا آتے ہوں نہایت مخفی طور پر ھدایا لانے کی ترغیب پر بھی مشتمل قرار دیا جا سکتا تھا اس لئے رسول کریم ال جو اخلاق فاضلہ کا نمونہ تھے ایسے اعلان کا کیا جانا کب پسند فرما سکتے تھے۔ آپ نے حضرت فاطمہ سے صاف کہدیا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ چونکہ آپ کی بیویاں اس امر کو اور نظر سے دیکھتی تھیں اور اس میں اپنی سبکی خیال کرتی تھیں انہوں نے پھر زور دینا چاہا اور اسی وقت حضرت زینب دوبارہ اس امر کو پیش کرنے کے لئے رسول کریم ﷺ کے گھر تشریف لائیں۔ اور چونکہ اسی وقت حضرت فاطمہ اس گھر سے رسول کریم ال سے بات کر کے نکلی تھیں انہوں نے اذن لینے کی ضرورت نہیں سمجھی اور خیال کیا کہ اس عرصہ میں کوئی ایسی صورت نہیں پیدا ہو سکتی جس میں مجھے حجاب کی ضرورت ہو۔ پس اس وقت ان کا داخل ہونا ایسا ہی ہے جیسے کسی ایسے گھر میں جس میں سے کہ دوسرے لوگ نکل رہے ہوں کوئی دوسرا شخص اس خیال پر گھس جائے کہ پردہ ہی ہو گا۔ حضرت فاطمہ کو جس قدر پر وہ رسول کریم ال سے ہو سکتا تھا اس سے بہت کم پر وہ زینب کو تھا جو آپ کی بیوی تھیں پس حضرت فاطمہ کے آنے کے بعد ان کا اس جوش میں جو اس واقعہ سے ان کی طبیعت میں پیدا ہو گیا تھا بلا اذن اندر چلے جانا ہرگز اس نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا جس نظر سے مصنف ہفوات کی آنکھ نے اسے دیکھا۔ ہے۔ زیادہ سے زیادہ وہ ایک اجتہادی غلطی تھی اور ہیں۔