انوارالعلوم (جلد 9) — Page 366
۳۶۶ مباشرت حرام نہیں بلکہ جو ان کے لئے مکروہ اور بوڑھے کے لئے جائز ہے اور جو ان کے لئے بھی اس ڈرسے مکروہ ہے کہ اس سے کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو روزہ کے ٹوٹنے کا موجب ہو۔لیکن اگر یہ وجہ کسی میں نہ پائی جائے تو کراہت کی پھر کوئی وجہ نہیں۔اور ظاہر ہے کہ جو وجہ بتائی گئی ہے وہ کسی بیمار میں ہی پائی جاسکتی ہے تندرست اور صحیح القویٰ آدمی کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوتا جو بیان کیا گیا ہے پس درحقیقت کسی کے لئے کبھی سوائے قلیل استثنائی صورتوں کے مباشرت منع نہیں رہتی۔اور مباشرت کو حرام قرار دینایا تو مصنف ہفوات کی جہالت پر یا شریعت سازی کی حد سے بڑھی ہوئی خواہش پر دلالت کرتا ہے۔مصنف صاحب ہفوات نے جو مضحکہ اوپر کی روایات بیان کر کے اُڑایا ہے اس کا جواب مکمل نہ ہو گا اگر میں اس جگہ کتب شیعہ سے چند ایک روایات درج نہ کردوں۔کافی جلد اول صفحہ ۳۷۷ پر کتاب روزہ میں امام ابو عبد اللہ کا فتویٰ درج ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا عورت کھانا پکانے ہوئے کھانے کا مزہ روزے میں چکھ سکتی ہے؟ تو انہوں نے کہاؤ بأست۔* اس میں کوئی حرج نہیں اور اسی حدیث میں لکھا ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا عورت روزہ میں اپنے بچے کو منہ میں کھانا چباکر دے سکتی ہے؟ تو انہوں نے کہالابا س۔اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔اس کے بعد حسین بن زیاد کی روایت لکھی ہے کہ باورچی اور باورچن کھانا پکاتے ہوئے کھانا چکھ سکتے ہیں۔مگر اس سے بڑھ کر یہ کہ مسعود بن صدقہ کی ایک روایت امام ابو عبد اللہ سے لکھی ہے کہ حضرت فاطمہ اپنے بچوں کو رمضان کے مہینہ میں روٹی چباچبا کر دیا کرتی تھیں۔بلکہ ان روایات پر بھی طُرہ وہ روایت ہے جس میں روزہ دار کے لئے پیاس بجھانے کا نسخہ بتایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ امام ابو عبداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ روزہ دار کو پیاس لگے تو اس کے بجھانے کے لئے وہ انگو ٹھی منہ میں ڈال کر چوسے۔یہ سب روایات فروع کافی کے صفحے ۳۷۷ پر درج ہیں اور شیعہ صاحبان کے لئے نہایت زبردست جُجت ہیں۔ان روایات کی موجودگی میں اس روایت پر اعتراض جسے خود اہل سنت کمزور اور ضعیف قرار دیتے ہیں مصنف ہفوات کے لئے کب جائز ہو سکتا ہے؟ وہ ان احادیش کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائیں کہ بقول ان کے ادنی ٰ امتی تو غبار سے بھی بے چین اور حضرت فاطمہ روٹیاں چبا چبا کر بچوں کو دیں اور خوب لطف اُڑائیں۔آخر منہ میں اس قدر در روٹی چبانے سے ایک حصہ تو ان کے پیٹ میں بھی جاتا ہو گا۔