انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page iv

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ اللہ تعالی کے فضل و احسان اور اس کی دی ہوئی توفیق سے فضل عمر فاؤ نڈیشن کو حضرت اس المصلح الموعود خلیفة المسیح الثانی کی پر معارف تصنیفات کی نویں جلد احباب جماعت کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی ہے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ اس جلد میں جو کتب شامل ہیں وہ دسمبر ۱۹۲۴ء تا ستمبر ۱۹۲۷ء کے زمانہ کی ہیں۔ علوم ظاہری و باطنی سے پر اس وجود کی تحریرات و تقاریر نے جماعت کی روحانی ترقی اور تزکیہ نفوس میں بھر پور کردار ادا کیا۔ یہ رشد و ہدایت کا ایک ایسا یاد گار خزانہ ہے جس کی افادیت اور عظمت دائمی حیثیت رکھتی ہے۔ زیر نظر مجموعہ میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے قلب صافی کی ایک نہایت خوبصورت جھلک سامنے آتی ہے وہ ہے سیدنا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا عشق اور شیفتگی کے جذبات۔ یہ جذبات ایسے ہیں جو گہری عقل و دانش مندی اور پوری سنجیدگی سے معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور محض سطحی جوش یا جذباتیت کا نتیجہ نہیں ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب بعض نادان ہندؤوں نے مسلمانوں کے پاک نبی حضرت محمد ملی تعلیم کی شان میں گستاخی کی جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے دل چھلنی ہو گئے ۔ عدالت عالیہ نے بھی ان کی تائید کی اور ایک مخلص احمدی سید دلاور علی شاہ صاحب نے اس عدالت کے فیصلہ پر تنقید کی تو ان کو اور ان کے ساتھی کو توہین عدالت کے مجرم میں چھ ماہ قید کی سزا سنادی گئی۔ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے مشورہ کی تعمیل میں کسی قسم کی معذرت کرنے سے انکار کر دیا اور نبی کریم میں یہ کی شان کو بلند رکھنے کے معاملہ میں قید و بند کی صعوبت گوارا کرلی۔ جب بعد میں ان گستاخان رسول ہندؤوں کو بھی سزا ہو گئی تو حضرت خلیفہ امر المسيح