انوارالعلوم (جلد 9) — Page 354
۳۵۴ اسی طرح کیا آپ نے یا آپ کے ہم خیال لوگوں نے آئینہ دیکھنا چھوڑ دیا ہے کہ اس میں بھی ذی روح کی تصویر بن جاتی ہے اگر کہو کہ اس تصویر کو ہم تو نہیں بناتے۔مگر سوال یہ ہے کہ آپ اس کو دیکھتے بھی ہیں یا نہیں یا آئینہ کا احراق کر دیا کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ سے اور اسی ذی روح کی تصویر بن جاتی ہے۔اگر کہیں کہ وہ تو عارضی تصویر ہوتی ہے قائم نہیں رہتی تو کیا عارضی طور پر گڑیاں بنا کر پھر ان کو توڑ ڈالنا جائز ہے؟ اور اس طرح شرک نہیں رہے گا۔اگر یہ درست ہے تو گڑیاں سب ہی ٹوٹتی رہتی ہیں ان کو کون ہمیشہ کے لئے رکھتا ہے؟۔مجھے افسوس آتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ لوگ اپنی نادانی اور جہالت سے اسلام کو نہایت تنگ اور محدود مذہب بنا دیتے ہیں حالانکہ جس طرح کسی مذہب میں اپنے پاس سے بڑھا دینا منع ہے۔قرآن کریم میں جس طرح ان لوگوں کو برا کہا گیا ہے جو اپنے پاس سے احکام بنا کر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔اسی طرح ان لوگوں کو بھی برا کہا گیا ہے جو بعض احکام الٰہی کو چھپا دیتے اور مخفی کر دیتے ہیں۔پس ایمان کا تقاضہ ہے کہ مذہب میں زیادتی اور کمی کسی قسم کی نہ کی جائے بلکہ اس کو اپنی اصل حالت میں رہنے دیا جائے۔شرک ایک خطرناک شئے ہے اور اس کا مرتکب خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر نازل کر لیتا ہے لیکن جو شخص شرک کے مفہوم کو خلاف منشائے شریعت کھینچ تان کر کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے وہ بھی کم مجرم نہیں۔کیونکہ وہ بھی درحقیقت اپنے آپ کو خدائی کی طاقتیں دے کر شریعت کے احکام کی وسعت و تنگی کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے۔تعجب ہے کہ ایک طرف مسلمانوں میں سے وہ لوگ ہیں جو کسی کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونے کو شرک کہتے ہیں۔عکس اُتروانے کو شرک کہتے ہیں۔حتی کہ غلو کرتے کرتے کرتے شرک فی الرسالت کا ایک مرتبہ ایجاد کر لیتے ہیں اور اس طرح شرک کے مسئلہ کو جو خاص ذات باری سے تعلق رکھتا ہے مبہم و مخلوط کر دیتے ہیں بعض بچوں کی کھیلوں تک کا نام شرک رکھ دیتے ہیں۔دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو بزرگوں کی قبروں پر سجدہ کرتے ہیں۔ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔بزرگوں کے نام پر بکرے دیتے ہیں ان کے نام پر جانوروں یا بچوں یا اور چیزوں کو وقف کر دیتے ہیں ان کو عالم الغیب خیال کرتے ہیں ان کو خدائی طاقتوں کا وارث سمجھتے ہیں اور بعض تو ان کے مکان یا مزار کی طرف منہ کر کے نماز بھی پڑھ لیتے ہیں اور یہاں تک سمجھ بیٹھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بھی ان سے خائف اور مرعوب ہے۔