انوارالعلوم (جلد 9) — Page 353
۳۵۳ کے اعتراض کے ایک حصہ کو باطل کردیا ہے اور غالباً اسی وجہ سے انہوں نے ابو داؤد کو نکال کر نہیں دیکھا بلکہ فردوس آسیہ کے حوالہ سے اعتراض کر دیا ہے اور وہ جملہ یہ ہے۔قدم رسول الله لى الله عليه وسلم من غزوة تبوك او خيبر» ۷۹؎، یعنی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے یا خیبر سے واپس تشریف لائے تھے تب یہ واقعہ ہوا تھا۔اس جملہ سے ظاہر ہے کہ راوی کو وقت کے متعلق شک ہے کہ وہ کون سا تھا تو ک اور خیبر میں دو سال سے زائد کا فرق ہے یعنی غزوہ خیبر دو سال پہلے ہوا ہے۔پس اگر خیبرکو صحیح سمجھاجائے تو اس وقتحضرت عائشہ کی عمر پندرہ سال سے کچھ کم ہی بنتی ہے۔لیکن جب راوی وقت کے متعلق خود شک میں ہے اور اس شک کا اظہار کرتا ہے اور دو ایسی جنگوں کا نام لیتا ہے جن میں دو سال سے زیادہ کا فرق ہے تو کیا تعجب ہے کہ درحقیقت جس جنگ کے بعد یہ واقعہ ہوا ہے وہ ان دونوں جنگوں کے سوا کوئی اور جنگ ہو اور خیبر سے بھی پہلے ہو اور یہی قرین قیاس معلوم ہوتا ہے اور اسی شک کو پوشیدہ رکھنے کے لئے غالباً مصنف ہفوات نے سنن ابو داؤد کی روایت کو نقل نہیں کیا جو زیادہ معروف کتاب ہے اور فردوس آسیہ کا حوالہ دے دیا ہے۔اب میں اس اعتراض کا جواب دے کر کہ حضرت عائشہؓ کی عمر گڑیاں کھیلنے کی اجازت دے سکتی تھی کہ نہیں؟ اس دوسرے سوال کا جواب دیتا ہوں کہ کیا گڑیاں کھیلنا شرک ہے اور کیا ذی روح کی تصویر یا تمثال سے کھیلنا شروع ہے۔اور إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ کی آیت کے خلاف ہے؟۔اول تو میں مصنف ہفوات اور ان کے طرز کے لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ روپیہ پیسہ کا استعمال کرتے ہیں یا نہیں؟ کیا اسی کتاب کے چھپوانے پر ان کو کاتبوں، پریس مینوں، مطبع والوں، کاغذ فروشوں کو ان کی مزدوری اور ان کے بل ادا کرنے پڑے تھے یا نہیں؟ اور وہ بل کس سکہ میں انہوں نے اداکئے تھے؟ کیا جس وقت وہ رائج الوقت سکہ کو استعمال کرتے ہیں یا کسی سے لے کر اپنی جیب میں ڈالتے ہیں تو اپنے آپ کو مشرک قرار دیا کرتے ہیں؟ یا مومن سمجھتے ہیں؟ ان کا گڑیوں پر اس طرح غضبناک ہو کر اعتراض کرنا کہ رسول کریم ﷺ کے ادب کو بھی نظر انداز کر کے یہ فقرہ لکھ دینا کہ "رسالت کو غارت کر دیا" بتاتا ہے کہ وہ شرک کے بڑے سخت دشمن ہیں لیکن کیا روپیہ پیسہ کا استعمال انہوں نےچھوڑ دیا ہے یا ان کے کسی بزرگ مجتہد نے چھوڑ دیا ہے؟ حالانکہ روپیہ اور نوٹ اور پیسہ سب پر ذی روح کی تصویر ہوتی ہے۔