انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 352

انوار العلوم جلد 9 : ۳۵۲ حق الیقین کیونکہ رانوں پر گھٹنوں کا ٹیکنا اور کندھوں پر ہاتھوں کا رکھنا بیٹھنے یا کھڑے ہونے کی حالت کو بتاتا ہے نہ کہ لیٹنے کی حالت کو۔ عاتق پر ہاتھ ہمیشہ بیٹھے یا کھڑے ہوئے انسان کے رکھا جا سکتا ہے۔ اور یہ بات تو بچے بھی جانتے ہیں کہ لیٹے ہوئے آدمی کی رانوں پر اگر گھٹنوں کو ٹیک دیا جائے تو وہ سخت تکلیف کا موجب ہوتا ہے نہ کہ محبت کے اظہار کا ذریعہ ۔ غرض جو مفہوم مصنف ہفوات نے اس روایت سے سمجھا ہے وہ ہرگز درست ہرگز درست نہیں بلکہ اس کے الفاظ سے فقط یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ جب گھر میں داخل ہوتے تو اپنی بیویوں کو پیار کرتے اور یہ قابل اعتراض بات نہیں بلکہ ایک اُسوہ حسنہ ہے بشرطیکہ کوئی بے رحم سنگدل یا ریا کار صوفی نہ ہو۔ بهتان در اعانت شرک از پیغمبر ایک نئے اعتراض کے پیدا کرنے کے لئے پھر وہی کتاب فردوس آسیہ مصنف ہفوات کے ہاتھ میں باطل ہو آئی ہے اور اب کے بھی اسی غرض کے لئے کہ اگر اصل کتاب کا حوالہ وہ دے دیں تو اعتراض ہو جاتا ہے۔ وہ فردوس آسیہ کے حوالہ سے سنن ابو داؤد کی یہ روایت درج کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوک سے واپس آئے تو حضرت عائشہ کی گڑیوں کا پر وہ ہوا سے اُڑ گیا آنحضرت نے پوچھا یہ کیا ہے؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں۔ ان میں ایک پر دار گھوڑا بھی تھا آنحضور نے پوچھا کیا گھوڑے کے پر بھی ہوا کرتے ہیں؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا کیا حضرت سلیمان کے گھوڑے کے پر نہ تھے پس آنحضرت ہنس کر چپ ہو گئے۔" اس روایت کو نقل کر کے مصنف ہفوات ان الفاظ میں اعتراض کرتا ہے۔ راوی نے حضرت عائشہ میں طباعی کی فضیلت ظاہر کرنے کی دھن میں رسالت کو غارت کر دیا۔ کیونکہ ذی روح کی تصویر سایہ دار کے دیکھنے پر پیغمبر خدا کا ہنس کر چپ رہ جانا منافی رسالت ہے۔ بلکہ ان تصاویر کا گھر سے اخراج بلکہ احراق شرط تھا جو نہ ہوا اس وجہ سے پیغمبر بشیر و نذیر نہ رہے۔ کیونکہ ان سے نہی عن المنکر ترک ہو گیا۔ پس اس بناء پر ماننا پڑے گا کہ مَعَاذَ اللَّهِ آیت ان الشَّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیم ۸ ہے"۔ صفحہ ۲۲۔ ایڈیشن دوسرا۔ دوسرا اعتراض مصنف ہفوات نے یہ کیا ہے کہ تبوک کے وقت حضرت عائشہ کی عمر سترہ سال کی تھی اور اس عمر میں بیاہی لڑکیاں بالعموم گڑیاں نہیں کھیلا کرتیں۔ یہ حدیث بے شک ابو داؤد میں ہے۔ لیکن اس میں ایک جملہ ایسا بھی ہے جو مصنف ہفوات