انوارالعلوم (جلد 9) — Page 344
انوار العلوم جلد 9 ۳ اس تعلق کو ظاہر کر کے ایک گہرا نقش اس کے دل میں جمایا جاتا ہے۔ حق الیقین میں نے خود کئی دفعہ اللہ تعالیٰ کو انسانی شکل میں دیکھا ہے اور مضمون رویا کے مطابق اس کی شکل مختلف طور پر دیکھی ہے۔ میں ہرگز نہیں سمجھتا کہ وہ شکل خدا تھی یا اس میں خدا تعالی حلول کر آیا تھا۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ایک جلوہ تھی اور اس رویا کے مضمون کے مطابق الہی صفات کی جلوہ گری پر دلالت کر رہی تھی وہ ایک رؤیت تھی مگر تصویری زبان میں۔ اور اس تعلق کو ظاہر کرتی تھی جو اللہ تعالیٰ کو مجھ سے یا ان لوگوں سے تھا جن کے متعلق وہ رویا تھی حضرت استاذی المکرم مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول اپنی طالب علمی کے زمانہ کا ایک واقعہ سناتے تھے کہ ایک دفعہ آپ کے استاذ مولوی عبد القیوم صاحب بھوپالوی نے جو مجدد عصر حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے خلفاء میں سے تھے خواب دیکھا کہ ایک شخص کوڑھی اندھا اور دیگر ہر قسم کی بیماریوں میں مبتلا بھوپال کے باہر پل پر پڑا ہے اس سے آپ نے پوچھا کہ تو کون ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں اللہ میاں ہوں۔ انہوں نے کہا اللہ میاں تو سب حسنوں کا جامع ہے اور تو سب عیبوں سے پُر ہے تو اس نے کہا کہ وہ بھی درست ہے لیکن میں بھوپال کے لوگوں کا خدا ہوں یعنی انہوں نے مجھے ایسا سمجھ چھوڑا ہے۔ غرض خدا تعالی کی رویت کی بناء پر کی صورتوں میں مومن کو ہوتی ہے اور اس کے ایمان کی زیادتی کا موجب بنتی ہے اور اس پر اعتراض کرنا ایک جاہل اور نادان انسان کا کام ہوتا ہے واقف حقیقت اس گڑھے میں نہیں گرتا۔ پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت ہوئی ہو تو اس میں کچھ تعجب کی بات نہیں اور یہ اعتراض کا مقام نہیں اکثر دفعہ رویا کی تعبیر ناموں کے معنوں پر ہوتی ہے۔ اگر ایسی رویا کسی کو ہو تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالی اس کو ایک سلسلہ بخشے گا جو ہمیشہ قائم رہے گا کیونکہ عائشہ کے معنے زندہ رہنے والی کے ہیں اور اس نام کی عورت کی شکل میں اگر اللہ تعالیٰ اپنا جلوہ ظاہر کرے تو اس کے یہ سنے ہوتے ہیں کہ یہ جلوہ نہ مٹنے والا ہے اور عورت اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ جلوہ امت کے متعلق ہے جو مؤنث ہے۔ ایسی رویا پر اعتراض کرنا کو رباطنی اور روحانیت سے حرمان پر دلالت کرتا ہے۔ نجات رسول از سکرات بلعاب عائشہ ایک اعتراض مصنف ہفوات نے یہ کیا ہے کہ فردوس آسیہ میں لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے وفات کے وقت مسواک چبوائی تاکہ آپ پر