انوارالعلوم (جلد 9) — Page 343
انوار العلوم جلد 9 موجودگی میں۔ ۳۲۳ حق الیقین مصنف ہفوات بجائے اس گندے اعتراض کے جو انہوں نے اپنی جبلی کمزوری کے ماتحت اختیار کیا ہے اگر قرآن کریم پر غور کرتے اور انسانوں کے مختلف طبقات کو دیکھتے تو مصنف فردوس آسیہ کے قول کے وہ معنی بھی کر سکتے تھے جو اوپر بیان ہوئے ہیں اور جن پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔ اسی اعتراض کے تحت میں مصنف ہفوات نے ایک اور اعتراض بھی کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مصنف آسیہ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنا جمال عائشہ کی شکل میں دکھلایا اور پھر درمیان سے پردہ اٹھا دیا اس پر مصنف ہفوت کو اعتراض ہے کہ کیا اللہ تعالی نے نَعُوذُ بِالله رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں کو محبت دیکھ کر عائشہ کی شکل میں حلول کیا۔ اس اعتراض کی بناء بھی کسی حدیث پر نہیں ہے۔ مصنف ہفوات کو چاہئے تھا کہ اول وہ حدیث لکھتے جس میں یہ بات بیان ہے پھر اعتراض کرتے اور اگر ایسی کوئی حدیث ان کو معلوم نہ تھی یا اگر کوئی تھی تو ایسی تھی کہ اس کو پیش کرتے ہوئے ان کو اپنی انصاف پسندی پر سے پردہ اٹھنے کا احتمال تھا تو خاموش رہتے۔ اگر ایسی ہی باتوں پر اعتراض کیا جائے تو شیعہ صاحبان میں بھی ایسی روایات مشہور ہیں کہ جن کو سن کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ایک روایت مشہور ہے کہ معراج کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرش پر حضرت علی کی ہی تصویر کو دیکھا تھا۔ پس اس قسم کی روایات اگر عوام الناس میں پھیل جائیں تو ان کی وجہ سے کسی مذہب یا اس کے ائمہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ یہ جواب تو اس بات کو مد نظر رکھ کر ہے کہ ایسی کوئی صحیح حدیث اہل سنت میں نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کی شکل میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔ لیکن اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے تو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا کیونکہ یہ ایک عام نظارہ ہے جس سے تمام روحانیت رکھنے والے مومن آگاہ ہیں اور اس پر اعتراض کر کے مصنف ہفوات نے صرف اس امر کو ظاہر کیا ہے کہ ان کو روحانیت سے ذرہ بھی میں نہیں۔ یہ امر لاکھوں مومنوں کے تجربہ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالٰی عام کشف اور رویا میں انسانوں کی شکل میں نظر آجاتا ہے اور اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ محدود ہے یا حلول کرتا ہے بلکہ اس رویا سے صرف اس تعلق کا اظہار مراد ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو بندے سے ہے اور تصویری زبان میں