انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 341

انوار العلوم جلد 9 ۳۴۱ حق الیقین نَعُوذُ بِاللهِ الزام دیں کہ انہوں نے حضرت ابو بکر کو بد نام کرنے کے لئے ان پر ان پر ایک اتهام لگایا یا مصنف ہفوات کو بے دین قرار دیں کہ بخاری کی عداوت میں اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ کیا۔ د نے یہ کیا ہے کہ مصنف حلول خدا به صورت عائشہ ایک اعتراض مصنف ہفوات نے یہ کتاب فردوس آسیہ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں أولَئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ١٨ کے الفاظ آتے ہیں ان کے یہ معنی ہیں کہ صفوان اور عائشہ اور صدیق بری ہیں اس سے جو منافق کہتے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ فردوس آسیہ کے مصنف کے نزدیک حضرت عائشہ پر نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذُلِک کسی منافق نے حضرت ابوبکر کے ساتھ ناجائز تعلق کا بھی الزام لگایا تھا۔ اللہ تعجب ہے کہ مصنف ہفوات نے دعوئی تو یہ کیا تھا کہ احادیث میں جو ہتک رسول کریم صلی علیہ وسلم کی کی گئی ہے اس کو پیش کریں گے لیکن آگئے فردوس آسیہ پر اور وہ بھی اس کے اقوال اور خیالات پر جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل غرض ان کی صرف اعتراض کرنا اور اہل سنت سے لوگوں کو بد ظن کرنا ہے نہ کہ احادیث کی تحقیق و تدقیق۔ چونکہ میرا کام ان احادیث اور ائمہ احادیث کے متعلق حقیقت کو ظاہر کرنا ہے جن پر مصنف ہفوات نے اعتراض کئے ہیں اس لئے فردوس آسیہ کے مصنف کے بریت کی کوشش کرنا میرے مقصد سے دور ہے۔ مگر ضمنا میں اس قدر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ گو میں نہیں جانتا کہ مصنف فردوس آسیہ کس تقومی اور کس علم کا آدمی تھا۔ مگر اس کی مذکورہ بالا تحریر سے وہ نتیجہ نکالنا جو مصنف ہفوات نے نکالا ہے درست نہیں۔ مصنف ہفوات کو معلوم ہونا چاہئے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اولاد کے افعال پر ماں باپ کے افعال کو قیاس کر لیا کرتے ہیں اور کسی بچہ کے بد فعل کو دیکھ کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس کے ماں باپ بھی ایسے ہی ہوں گے۔ پس کیا تعجب ہے کہ بعض منافقوں نے جن کو حضرت ابو بکر سے بلا وجہ بغض تھا اور جو ان کو اسلام کے لئے بمنزلہ ستون دیکھ کر ان کی تباہی اور بربادی کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ یہ بھی کہہ دیا ہو کہ جیسی بیٹی ثابت ہوتی ہے ( نَعُوذُ بالله ) ایسا ہی باپ ہو گا۔ یا کم سے کم مصنف آسیہ کو یہ خیال پیدا ہوا ہو۔ پس اس صورت میں اس آیت میں حضرت ابو بکر کی بریت بھی خود بخود آگئی کیونکہ جب حضرت عائشہ پر سے اللہ تعالیٰ نے اعتراض دور