انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 333

انوار العلوم جلد و ٣٣٣ حق اليقين ہے طلاق قرار دے کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ضرورت کے وقت طلاق عورت کے منہ پر بھی دی جا سکتی ہے اور یہ بد اخلاقی نہیں کہلائے گی۔ اگر جونیہ امام بخاری کے نزدیک زن اجنبیہ تھی اور اگر اس کا انکار حفاظت عصمت کے لئے تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واپس آجانا فضیحت کے خوف سے تھا ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ ) تو اس سے یہ کیونکر ثابت ہو گیا کہ عورت کو اس کے منہ پر طلاق دی جا سکتی ہے پس با وجود اس کے کہ امام بخاری اس حدیث سے یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ جونیہ آپ کی منکوحہ بیوی تھی اور اس کے گستاخی آمیز کلام کی وجہ سے آپ نے اس کو طلاق دے دی تھی یہ نتیجہ نکالنا کہ محدثین نے آپ پر اقدام زنا کی تہمت لگائی ہے کہاں تک درست ہے۔ کیا مصنف ہفوات کے نزدیک ایک خاوند کا اپنی بیوی کے پاس جانا زنا ہے اور کیا اسی معیار پر وہ اپنی اور اپنے آباء کی نسل کو پرکھا کرتے ہیں۔ یہ تو اس حدیث کا سیاق ہے۔ سباق بھی اس سے کم واضح نہیں۔ اس حدیث کے بعد جو مصنف ہفوات نے بیان کی ہے دوسری حدیث جو اسی راوی کی بیان کردہ ہے جس نے پہلی روایت بیان کی ہے یہ ہے۔ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ قَالَا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہفوات کے نئے ایڈیشن میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے جواب کا ذکر کرتے ہوئے جو انہوں نے اس اعتراض کے متعلق اپنے اخبار میں شائع کیا ہے مصنف صاحب ہفوات لکھتے ہیں کہ باب الطلاق کے نیچے اس حدیث کا درج کرنا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ امام بخاری کی مراد یہ ہے کہ جونیہ کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح ہو چکا تھا کیونکہ امام بخاری باب و حدیث کی مطابقت کی پابندی نہیں کیا کرتے۔ اول تو ان کا یہ دعوی باطل ہے امام بخاری پابندی کرتے ہیں مگر انہوں نے کتاب سمجھداروں کے لئے لکھی ہے جتال کے لئے نہیں لکھی اس لئے بعض جہلاء کو جو حقیقت شناسی کی قابلیت نہیں رکھتے باب و حدیث میں موافقت نظر نہیں آتی۔ لیکن اگر یہ کوئی اعتراض ہے تو امام بخاری ہی اس کا نشانہ نہیں ہیں شیعوں کی سب سے معتبر کتاب «کافی" بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے چنانچہ فروع کافی جلد اول میں صلوٰۃ فاطمہ کا باب باندھ کر نیچے جو احادیث لکھی ہیں ان میں حضرت فاطمہ کی نماز کا کوئی ذکر ہی نہیں۔ پس اس اصل کے ماتحت کہ اگر بعض بابوں کا احادیث سے جہلاء کو تعلق درست نہیں نظر نہ آئے تو اس کے یہ : ں کے یہ معنے ہیں کہ باب ۔ سے حدیث کے مفہوم کا استدلال و تمام "کافی غیر معتبر ٹھہرے گی۔