انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 332

۳۳۲ حق الیقین نہ تھا کہ آپ کون ہیں کیونکہ اس حدیث میں اس قسم کا کوئی ذکر نہیں ہے۔اسی طرح بیت المال سے اس کو کسی رقم کے دیئے جانے کا کوئی ذکر نہیں۔ایک صحابی کو کہا گیا ہے کہ وہ اس کو دو کپڑے دے دے اور اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ بیت المال سے دیدے بلکہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے کپڑے دینے کو کہا گیا ہے۔خواہ یہ سمجھ لیا جائے کہ اس صحابی کے پاس آپ کا کچھ مال ہو گا خواہ یہ کہ اس سے آپ نے قرض لے کر یہ کپڑے دلوائے۔تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ آپ بیت المال مسلمانان سے کوئی رقم اپنے ذاتی اخراجات کے لئے نہیں لیتے تھے پھر اس ثابت شده حقیقت کے خلاف کوئی نتیجہ کس طرح نکالا جاسکتا ہے؟ مصنف ہفوات کابُغض اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ اس حدیث کے اس حصہ کا ترجمہ جس میں جونیہ پر ہاتھ رکھنے کا ذکر ہے اس نے یوں کیا ہے۔’’ پس آنحضرت نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا (یعنی زبردستی کرنی چاہی) تاکہ اسے تسکین ہو‘‘ صفحہ ۸- اس ترجمہ کور کی کرہی ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ مصنف ہفوات اس کتاب کی تصنیف کے وقت جوش تعصب سے اندھے ہو رہے تھے۔کیونکہ ایک طرف تو آپ حدیث کے لفظوں کا یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ ہاتھ بڑھایا تا اس عورت کو تسکین ہو۔اور دوسری طرف خطوط وحدانی میں نوٹ کرتے ہیں ’’ یعنی زبردستی کرنی چاہی اور یہ جملہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں شخص کو اس نے مارنا چاہا تا اس کے دل سے ڈر نکل جائے۔فلاں شخص کو اس نے زہر دیا تا وہ بچ جائے۔اگر آپ نے اس عورت کی تسکین کے لئے ہاتھ بڑھايا تھا تو اس سے زبردستی کرنے کا مفہوم کیونکر نکل آیا۔غرض حدیث کے الفاظ اس مفہوم کو بہ صراحت رد ّکر رہے ہیں جو مصنف ہفوات نے حدیث سے اخذ کیا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ صراحت اس حدیث کے سیاق و سباق سے ہو جاتی ہے اور کم سے کم ائمہ حدیث پر ایک اعتراض سے محفوظ ہو جاتے ہیں اس حدیث کا جو مفہوم امام بخاری نے سمجھا ہے اور اس عورت کا جو تعلق انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے خیال کیا ہے وہ اس سے ظاہر ہے کہ یہ حدیث انہوں نے اس مسئلہ کے ثبوت میں تحریر کی ہے کہ کیا طلاق دی اور خصوصا ًعورت کے منہ پر طلاق دینی درست ہے چنانچہ وہ اس حدیث کو اس باب میں بیان کرتے ہیں، باب من طلق وھل يواجه الرجل امرته با لطلاق یہ عنوان ظاہر کرتا ہے کہ امام بخاری جونیہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی منکوحہ بیوی خیال کرتے ہیں اور آپ کے اس قول کو کہ تُونے اس کی پناہ مانگی ہے جو پناہ دینے والا