انوارالعلوم (جلد 9) — Page 331
۳۳۱ حق الیقین اپنے نفس کو مجھے ہبہ کر دے تو اس نے جواب دیا کہ کیا ملکہ اپنے آپ کو عام آدمیوں کے سپرد کرتی ہے۔ابو اسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تا اس پر اپنا ہاتھ رکھیں اور اس کادل تسکین پاۓ اس پر اس نے کہا میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اس بات کو سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تُو نے اس کی پناہ مانگی ہے جو بڑا پناہ دینے والا ہے۔پھر آپ باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے ابا اسید اس کو دو چادریں دیدو اور اس کے گھر والوں کے پاس اسے پہنچادو۔ٍاس حدیث کو نقل کر کے مصنف ہفوات نے یہ اعتراض کئے ہیں۔(۱) اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اقدام زنا کا الزام لگایا گیا ہے (۲) زن اجنبیہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا (۳) محصنہ اجنبیہ (یعنی اجنبی بِن بیاہی عورت ) نے دُہائی دے کر اپنا پیچھا چُھڑایا۔مگران اعتراضات پر ہی آپ کی تسلی نہیں ہوئی ایک آریہ رام سنگھ بی اے کی زبانی ایک لمبا طومار اعتراضات کا اس حدیث پر لکھ مارا ہے یعنی (1) ایک عورت کو بستی سے الگ آبادی سے دور باغ میں بلوایا گیا (۳) بِلا پیسے ٹکے قبضہ میں لانا چاہا (۳) اس کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آپ ہیں کون (۴) جب اس عورت نے انکار کیا تو اس کی طرف زبردستی کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا گیا (۵) پھر اس بے حجابانہ ملاقات کے صلہ میں اس عورت کو بیت المال میں سے معاوضہ دیا گیا۔آریہ بے چارہ کا نام پردہ ڈالنے کے لئے کیا گیا ہے در حقیقت یہ اعتراضات بھی خود مصنف ہفوات کی طرف سے ہی ہیں۔مجھے تعجب آتا ہے کہ اس عقل و دانش اور علم وفہم پر آپ کو کتاب لکھنے اور پھر ائمہ اسلام کے منہ آنے کی کیا سوجھی تھی۔اس حدیث میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے ظاہر ہو کہ جونیہ کو شہر سے با ہرویرانہ میں بلایا گیا تھا یا یہ کہ وہ زن اجنبیہ تھی یا یہ کہ اس سے زبردستی کی گئی یا یہ کہ اسے بیت المال سے روپیہ دیا گیا تھا۔بلکہ اس کے برخلاف الفاظ حدیث سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آباد جگہ بلکہ چوراہے پر اتاری گئی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جماعت مسلمین سمیت اس کے گھر تشریف لے گئے تھے۔خود اس کے ساتھ بھی ایک دایہ تھی۔آپ نے اس کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی بلکہ حدیث کے لفظ صاف ہیں کہ اس کی تسلی کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر ہاتھ رکھنا چاہا۔کیا زبردستی ہاتھ ڈالنے سے دوسرے انسان کی تسلی ہوا کرتی ہے؟ اس حدیث سے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا ہے کہ اس کو معلوم