انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxxv
۲۷ حضور نے اس کے جواب میں ۲۸ جولائی ۱۹۲۷ء کو یہ مضمون تحریر فرمایا کہ ہم ان ہندوؤں کی حفاظت کے سلسلہ میں پوری کوشش کر رہے ہیں۔ حضور نے سرحد کے خوانین سے اپیل کی کہ وہ ہندوؤں کو اسلام پر اعتراض کرنے کا ایک اور موقع فراہم نہ کریں۔ ہاں مسلمانوں کی ترقی کیلئے ٹھوس کام کریں۔ نیز آپ نے اپ نے تحریر فرمایا کہ ہندوؤں کو بھی چاہئے کہ وہ اشتعال انگیزی سے کام نہ لیں بلکہ حالات کو پر سکون بنانے میں گورنمنٹ کی مدد کریں۔ (۲۸) موجودہ بے چینی کے چند شاخسانے راجپال کی دل آزار کتاب کے متعلق مسلمانوں میں جو بے چینی پیدا ہوئی وہ قدرتی تھی۔ پھر اس کے ساتھ چند ضمنی امور بھی پیدا ہو گئے۔ سرجیفرے مانٹ مورنسی وزیر مال نے چوہدری افضل حق صاحب کی تقریر کے بارہ میں کچھ طنزیہ ریمارکس دئے۔ اس پر ان کے حامیوں میں سخت جوش پیدا ہو گیا۔ اس موقع پر حضور نے یہ مضمون لکھ کر حالات کو پر سکون بنانے کی تلقین کی۔ فرمایا :۔ میرے نزدیک اس قضیہ نامرضیہ میں دونوں فریق کی غلطی ہے۔ ہمیں اپنی تحریر و تقریر میں اخلاق کے قوانین کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔" (۲۹) فیصلہ ورتمان کے بعد مسلمانوں کا اہم فرض ہندو رسالہ ” در تمان" میں ایک مضمون "سیر دوزخ " کے عنوان سے چھپا جو حضرت رسول کریم میم کی ہتک عزت پر مشتمل تھا۔ مسلمانوں کے احتجاج پر ایڈیٹر رسالہ اور مضمون نگار پر مقدمہ چلا اور عدالت سے اس انہیں سزا ہوئی۔ اس موقع پر ۱۰۔ اگر ۱۰ اگست ۱۹۲۷ء حضور نے مسلمانوں کی راہنمائی کیلئے یہ مضمون تحریر فرمایا ۔ آپ نے لکھا کہ بعض لوگ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں لیکن میرا دل غمگین ہے۔ کو کیونکہ میں اپنے آقا اپنے سردار حضرت محمد مصطفی ملی یم کی ہتک عزت کی XXXX