انوارالعلوم (جلد 9) — Page 307
انوار العلوم جلد 9 ۳۰۷ حق الیقین تین چیزیں نبیوں کی سنتوں میں سے ہیں اول خوشبو، دوم بال صاف کرنا، سوم کثرت جماع ۔ اب مصنف ہفوات بتائیں کہ علی بن موسی الرضا تو عورتوں کی صحبت کی کثرت کو سنت انبیاء قرار دیتے ہیں۔ پھر آپ اسے کنیا پرستی قرار دے کر کس کو گالیاں دے رہے ہیں ؟ آیا ائمہ اہل سنت کو یا خود ائمہ اہل بیت کو؟ سب سے زیادہ لذیذ چیز مندرجہ بالا احادیث جو اہل شیعہ کی روایات میں سے ہیں۔ مصنف ہفوات کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہوں گی۔ مگر میں دو اور روایتیں لکھ کر جو ان سب سے بڑھ کر ہیں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان کو پھوس کے گھر میں بیٹھ کر آگ سے نہیں کھیلنا چاہئے۔ ایک شیعہ صاحب امام ابو عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت امام ابو عبد اللہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ لذید شئے کیا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا الدِّ الاَ شَيَاءِ مُبَاضَعَةُ النِّسَاءِ کے عورت سے جماع کرنا ہے وہ لفظ جو امام ابو عبد اللہ کی طرف اس شیعہ مخلص نے منسوب کئے ہیں بہت زیادہ ننگے اور واضح ہیں لیکن میں نے ان کا ترجمہ سنجیدہ الفاظ میں کر دیا ہے۔ امید ہے کہ مصنف صاحب ہفوات لغت دیکھ کر خود معلوم کر لیں گے کہ ان لفظوں کا لفظی ترجمہ ہماری زبان میں کیا ہو سکتا ہے۔ اور پھر اس طرز تحریر کو بدلنے کی کوشش کریں گے جو الفاظ احادیث کی وجہ سے نہیں بلکہ بخاری کے مترجم کے بعض نامناسب الفاظ سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے اپنی کتاب میں اختیار کی ہے۔ دوسری روایت اہل شیعہ کی جو میں پیش کرنا چاہتا ہوں حسب ذیل ہے۔ عقبہ بن خالد بیان کرتے ہیں میں ابو عبد اللہ علیہ السلام کے پاس آیا جب آپ گھر سے نکل کر آئے تو کہا کہ یا عَقَبَةُ شَغَلَنَا عَنْكَ هُؤُلَاءِ النِّسَاءِ ٣٨ ترجمہ۔ اے عقبہ ! ان عورتوں نے ہمیں مشغول رکھا اور تیرے پاس نہ آنے دیا۔ مذکورہ بالا دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تو امام صاحب جو نبیوں کی طرح آپ کے عقیدے میں معصوم تھے عورتوں سے تعلق کو سب سے زیادہ لذیذ شئے بتاتے ہیں۔ دوسرے دیے سرے دین کی خدمت پر آنے والے لوگوں سے عورتیں ان کو روک بھی لیتی ہیں! ہیں اور (بقیہ فوٹ نوٹ ) نہیں بلکہ اظہار واقعہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہی احادیث کتب شیعہ میں بھی موجود ہیں وہ کس خصوصیت وصیت کی کی وجہ وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ؟ تعجب پر پر تعجب یہ ہے کہ کہ اس ا قدر تبدیلی کے بعد مصنف صاحب ہفوات نے دوسرے ایڈیشن میں پھر پہلے ہی اعتراض ڈہرا دیتے ہیں۔