انوارالعلوم (جلد 9) — Page 305
انوار العلوم جلد 9 ۳۰۵ حق الیقین نہیں فرمایا۔ پس حدیث کے یہ معنے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کاملہ کے ماتحت میں نے بہت سے نکاح کئے ہیں اور خوشبو کو پسند کرتا ہوں ورنہ میری لذت تو ذکر الہی میں تھی۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ دنیا کی کوئی لذت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بخواہش خود استعمال نہیں فرماتے تھے بلکہ اللہ تعالی کے منشاء اور اس کے ازلی قانون کی متابعت میں بقدر ضرورت دنیا کی چیزوں سے تعلق رکھتے تھے اور یہ مضمون آیت اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے عین مطابق ہے اور اس پر اعتراض کرنا کور چشمی کی دلیل ہے۔ میں نے اس اعتراض پر زیادہ بسط سے اس لئے لکھا ہے کہ یہ ایک اصولی سوال ہے اور مصنف ہفوات کی طرح بہت سے لوگ اس وہم میں پڑے ہوئے ہیں کہ استعمال طیبات شائد ایک مکروہ بات ہے جو عام مومنوں کو تو جائز ہو سکتی ہے مگر بزرگوں اور نبیوں کے لئے جائز نہیں حالانکه معامله برعکس ہے۔ طیبات ایک نعمت ہے اور ہر نعمت کے اصل مستحق اللہ تعالی کے محبوب بندے ہیں اگر ان کا وجود نہ ہو تا تو یہ دنیا ہی پیدا نہ کی جاتی۔ ہاں چونکہ وہ اپنی محبت کو خدا ہی کے لئے وقف کر چکے ہوتے ہیں وہ جس دنیاوی کام کو کرتے ہیں محض احکام الہی کی بجا آوری میں کرتے ہیں اور اس کے قانون کے ادب کو مد نظر رکھ کر کرتے ہیں اور وہ لوگ جو ان نعمتوں کے حقیقی مستحق نہیں ہیں وہ زیادہ شوق انہی کا رکھتے ہیں جیسے ایک شخص کسی دوست کو ملنے جاتا ہے تو جب کہ مہمان کی تمام توجہ اپنے دوست کی صحبت سے فائدہ اٹھانے میں لگی ہوئی ہوتی ہے۔ اور وہ کھانا محض دوست کے اظہار محبت کی قدر کے طور پر کھاتا ہے اس کے نوکروں کی توجہ زیادہ تر کھانے کی طرف ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ ایک حق پسند انسان کی تسلی کے لئے کافی ہے لیکن سب دنیا حق پسند نہیں ہوتی اور خصوصاً مصنف ہفوات کے تو ایک ایک لفظ سے تعصب اور بعض ٹپک رہا ہے ان کی نسبت یہ خیال بہت مشکل ہے کہ وہ بلا اپنے گھر کے بھید معلوم کرنے کے خاموش ہوں بلکہ کوئی تعجب نہیں کہ وہ سب جواب پڑھ کر پھر بھی تحریر فرمادیں کہ ”مسلمانوں کو کسی کنیا پرست نے یہ عبارت دی اور انہوں نے اس زمل کو حدیث سمجھ لیا " پر چاہتا ہوں کہ ان کو بتا دوں کہ وہ کتیا پرست ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ ) کا لفظ کس کی نسبت استعمال کر رہے こん ريب ہیں۔ فروع کافی جلد ۲ کتاب النکاح باب حب النساء میں عمر بن یزید امام ابو عبد اللہ سے روا کرتے ہیں قَالَ مَا أَظُنُّ رَجُلاً يَزْدَادُ فِي الْإِيْمَانِ إِلَّا ازْدَادَ حُبًّا لِلنِّسَاءِ ترجمہ