انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxiv of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxxiv

۲۶ طرف توجہ دلائی کہ وہ سب متحد ہو کر اپنے مشترکہ کام کریں اور اختلافات میں اپنی طاقت کو ضائع نہ کریں۔ اس وقت ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہندوؤں نے کی ہے اس لئے ان کا مقابلہ کریں نہ کہ گورنمنٹ کا۔ گورنمنٹ تو ہماری مدد کے لئے کھڑی ہے اس لئے ہمیں اس سے تعاون کر کے اپنا مقصد حاصل کرنا چاہئے۔ فرمایا :۔ پس اے دوستو یہ کام کا وقت ہے ، جیل خانہ میں جانے کا وقت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں اس وقت بیداری پیدا کر دی ہے۔ اس بیداری سے فائدہ حاصل کرو یہ دن روز نصیب نہیں ہوتے ۔۔ اب جلد سے جلد اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی بہبودی کے کاموں میں لگ جاؤ۔" (۲۶) اسلام کے غلبہ کیلئے ہماری جدوجہد کچھ عرصہ قبل حضور نے یہ تحریک فرمائی کہ مسلمانوں کو بیدار کرنے کیلئے ۲۲ جولائی ۱۹۲۷ء کو ملک بھر میں جلسے کئے جائیں۔ یہ مضمون حضور نے اس غرض کیلئے تحریر فرمایا کہ ان جلسوں میں مسلمانوں کو سنایا جائے تاکہ ان میں بیداری پیدا ہو اور وہ ترقی کے راستوں پر گامزن ہوں۔ فرمایا کہ ہندو مسلمانوں کو اس ملک میں اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے مقابلہ کیلئے ضروری ہے کہ پورے جوش اور مستقل ارادہ کے ساتھ تبلیغ اور اتحاد باہمی کی تحریکات کو جاری رکھا جائے۔ اس کام کے لئے ہر شہر، قصبہ اور گاؤں میں کمیٹیاں بنائی جائیں جن میں ہر فرقہ کے آدمی شامل ہوں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تاکہ متحد ہو کر مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کام ہو سکیں۔ (۲۷) سر حد سے ہندوؤں کا اخراج صوبہ سرحد کے متعلق اخباروں میں یہ خبر چھپی کہ راجپال کی کتاب اور ورتمان کی تحریرات کی وجہ سے وہاں کے خوانین نے ان ہندوؤں کو جو سرحد پر تجارت کرتے ہیں اس علاقہ سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ اس پر اخبار ملاپ کے ایڈیٹر نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔