انوارالعلوم (جلد 9) — Page 303
انوار العلوم جلد 9 ۳۰۳ حق اليقين ہے۔ اس حدیث کو مد نظر رکھو اور اس حالت کو دیکھو جو اسلام سے پہلے عورتوں اور طہارت کی تھی اور معلوم کرو کہ کیا یہ حدیث ایک اعلیٰ درجہ کی صداقت اور خوبی پر مشتمل ہے یا نہیں؟ کیا اس میں کچھ شک ہے کہ اسلام سے پہلے عورتوں کے حقوق کو پامال کیا جاتا تھا اور ان کے لئے ابدی حیات کا انکار کیا جاتا تھا اور ان کو مالوں اور جائدادوں کی طرح ایک منتقل ہونے والا ور یہ خیال کیا جاتا تھا۔ اور ان کی پیدائش کو صرف مرد کی خوشی کا موجب قرار دیا جاتا تھا حتی کہ مسیحی جو اپنے آپ کو حقوق نسواں کے حامی کہتے ہیں ان کے پاک نوشتوں میں بھی عورت کی نسبت لکھا تھا۔ البتہ مرد کو اپنا سر ڈھانکنا نہ چاہئے کیونکہ وہ خدا کی صورت اور اس کا جلال ہے اسی طرح لکھا تھا۔ اور میں اجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے"۔ اسے اسلام ہی ہے جس نے عورتوں کی انسانیت کو نمایاں کر کے دکھایا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے عورتوں کے بلحاظ انسانیت برابر کے حقوق قائم کئے اور وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُو ۳۲ کی تفسیر لوگوں ۔ خوب اچھی طرح ذہن نشین کی۔ آپ کے کلام میں عورتوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق اور ان کی قابلیتوں کے متعلق جس قدر ارشادات ہیں ان کا دسواں حصہ بھی کسی مذہبی پیشوا کی تعلیم میں نہیں ملتا اور یہی مطلب ہے حُببَ إِلَى النِّسَاء کا یعنی عورتوں کی قدردانی اور ان کی خوبیوں کا احساس میرے دل میں پیدا کیا گیا ہے۔ کے وہی سلوک جو عورتوں سے آنحضرت کی بعثت سے پہلے کیا گیا تھا کم و بیش طور پر خوشبو سے بھی کیا گیا تھا۔ عیسائیوں میں اور ہندوؤں کے بعض فرقوں میں بزرگان دین کے لئے پاک رہنا اور خوشبو کا استعمال بالکل حرام سمجھا جاتا تھا گندے اور بد بو دار لباس کا استعمال اور ناخن نہ کٹوانا میل نہ اتارنا بہت بزرگی خیال کی جاتی تھی اور مختلف اقوام میں بھی خوشبو کے استعمال کو روحانیت کے لئے مصر سمجھا جاتا تھا حالانکہ جیسا کہ طب سے ثابت ہوا ہے خوشبو صحت کی بہتری اور خیالات کے بلند کرنے میں محمد ہوتی ہے اور بد بو اس شخص کے لئے بھی مُصر ہوتی ہے جو گندہ رہتا ہے اور دوسروں کو بھی اس سے ضرر ہوتا ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي القَوْمَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَدُّى مِمَّا يَتَأَذَى مِنْهُ النس سے یعنی جو شخص اس بودار پودے لہسن کا استعمال کرے اسے چاہئے کہ مسجدوں میں نہ آئے کیونکہ ملائکہ بھی ان چیزوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس