انوارالعلوم (جلد 9) — Page 298
۲۹۸ حق الیقین دوسری آیت جس میں اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے یہ ہے۔اِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ () فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ() رُدُّوهَا عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ (ص: 32-34)ترجمہ۔جب کہ اس کے (حضرت سلیمان علیہ السلام کے) سامنے سے نہایت اعلیٰ تین سُموں پر کھڑے ہونے والے تیز دوڑنے والے گھوڑے گزارے گئے تو انہوں نے بار بار کہا کہ میں ان دنیاوی سامانوں سے اپنے رب کی یاد کے سبب سے محبت کرتا ہوں (ذاتی محبت نہیں ہے) یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نظر سے دور ہو گئے تو حکم دیا کہ ان کو میرے پاس واپس لاؤ اور ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے (جیسا کہ پیار سے جانوروں پر ہاتھ پھیرا جاتا ہے)۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام گھوڑوں سے محبت رکھتے تھے اور اس کی وجہ ان کی طبعی یا جسمانی لذتیں نہ تھیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے ذکر کے قیام کے لئے وہ ایسا کرتے تھے۔کیونکہ گھوڑوں کے ذریعہ ان کو جہاد فی سبیل اللہ میں مدد ملتی تھی۔پس ذکر محبوب کے قیام میں ممد ہونے کے سبب سے وہ آپ کو پیارے تھے۔مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک محبت ایسی بھی ہوتی ہے کہ وہ کسی دوسری محبت کے طفیل میں ہوتی ہے اور ایسی محبت اصل محبت کے راستہ میں روک نہیں ہوتی۔بلکہ اس کی گہرائی اور عظمت پر دلالت کرتی ہے۔اس قسم کی محبت کا ذکر قرآن کریم میں صحابہ کے متعلق آیا ہے سورۃ حشر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر :10) ترجمہ: اور وہ لوگ جو مہاجرین کی آمد سے پہلے مدینہ دار الہجرت میں رہتے تھے اور جنہوں نے ایمان کو اختیار کیا ہوا تھا وہ محبت کرتے ہیں ان سے جو ان کی طرف ہجرت کر کے آئے ہیں اور اس مال کی رغبت نہیں کرتے جو ان کو دیا جاتا ہے اور مہاجرین کو اپنی جانوں پر مقدم کر لیتے ہیں گو خود ان کو بھوک کی تکلیف ہی کیوں نہ ہو اور جو لوگ بخل نفس سے بچائے جاتے ہیں وہ کامیاب ہونے والے ہیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ آپس میں ایک دوسرے سے اللہ کے لئے محبت کرتے تھے اور انکا یہ فعل اللہ تعالیٰ کو محبوب تھا اور وہ اس کی تعریف فرماتا ہے۔