انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 297

۲۹۷ زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔اس جگہ دو محبتوں کا ذکر ہے۔ایک جس میں ماسوا کی محبت وہ رنگ اختیار کر لیتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں ہونا چاہئے۔اس کو ناپسند اور ناجائز فرمایا ہے۔اور ایک محبت وہ بیان فرمائی ہے کہ گو دوسروں کی محبت بھی دل میں ہوتی تو ہے مگر اللہ تعالیٰ کی محت سے کم ہوتی ہے اور اس سے ادنیٰ درجہ پر ہوتی ہے۔اس طرح سورۃ توبہ میں فرماتا ہےقُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (التوبة :24)ترجمہ: کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ دادے اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے ماند پڑ جانے کا تمہیں ڈر ہے اور گھر جن کو تم پسند کرتے ہو تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کے رستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰٰ کا فیصلہ صادر ہو اور اللہ فاسقوں کو کبھی کامیاب نہیں کرتا۔اس آیت سے بھی ظاہر ہے محبت دو قسم کی ہوتی ایک وہ جو حرام ہے جو خدا اور رسول کی محبت اور خدمت دین کی خواہش پر غالب آ جاوے اور اس میں سستی پیدا کر دے۔اور ایک جو جائز ہے یعنی جو اللہ تعالیٰٰ اور رسول کی محبت سے ادنیٰ درجہ پر ہو اور خدمت دینی کے رستہ میں روک نہ ہو۔تیسری قسم کی محبت جو اہل اللہ اور انبیاء او ررسل کی محبت ہے اس کا ذکر قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات میں ہے: لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ (البقرة :178)ترجمہ: نیکی تمہارے مشرق و مغرب کی طرف نہ پھیرنے کا نام نہیں ہے لیکن سچی نیکی اس شخص کی نیکی ہے جو اللہ اور یوم آخر پر اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر ایمان لاتا ہے اور اللہ کی محبت کی وجہ سے اپنے قریبیوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر اور لوگوں کے چھڑانے پر خرچ کرتا ہے جو مالی یا جسمانی قید میں گرفتار ہوتے ہیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی محبت اپنے عزیزوں اور قریبیوں سے بھی اللہ کی محبت کے باعث ہوتی ہے اور اس کے سب رشتہ دار طبعی محبت کے علاوہ للہی محبت کی رسی سے بندھے ہوتے ہیں۔