انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxiii of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxxiii

ایک مضمون تحریر فرمایا آپ فرماتے ہیں:۔ ۲۵ میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ سلسلہ کے نام پر میں اس کتاب کو ضبط کرتا ہوں آئندہ کسی سلسلہ کے اخبار میں اس کا اشتہار نہ چھپے کوئی احمدی اسے نہ خریدے اور جو خرید چکے ہیں وہ فورا اس کتاب کو تلف کر دیں اور جب تک اس کتاب کے سخت الفاظ بدل کر مہذب طریق سے مضمون کو پیش نہ کیا جائے، اس کتاب کی بندش رہے۔" (۲۴) کیا آپ اسلام کی زندگی چاہتے ہیں راجپال کی کتاب ”رنگیلا رسول" اور اس کے بعد کے واقعات کی وجہ سے ہندوستان میں جو حالات پیدا ہو گئے تھے حضور ان کے بارہ میں متواتر مسلمانوں کی راہنمائی فرماتے رہے۔ یہ اور اس کے بعد آنے والے چند مضامین آپ نے اس آپ نے اس سلسلہ میں تحریر فرمائے۔ مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔ : پس اے مسلمانو! اپنے حال پر غور کرو اور اپنے مشکلات پر نظر ڈالو۔ ایک دن وہ تھا کہ خدا کی نصرت تم کو کرہ ارض کے کناروں تک لے جارہی تھی اور آج تم دوسری قوموں کا فٹ بال بن رہے ہو ۔ جس کا جی چاہتا ہے پیر مار کر تمہیں کہیں کا کہیں پھینک دیتا ہے۔“ پھر فرمایا کہ بغیر عقل اور تدبیر سے کام لینے کے مسلمانوں کی موجودہ مشکلات دور نہیں ہو سکتیں۔ جوش کی بجائے ہمیں ہوش سے کام لے کر اپنے قیدیوں کو چھڑانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ ہمارا فرض ہے کہ عدالت کے فیصلہ کو جلد بدلوائیں نیز قانون ۔ کی اصلاح کروائیں تاکہ آئندہ ایسے مجرم بری نہ کئے جاسکیں۔ (۲۵) اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ کسی امر میں ہے ۱۷ جولائی ۱۹۲۷ء کو حضور نے یہ مضمون تحریر فرمایا جس میں مسلمانوں کو اس امر کی