انوارالعلوم (جلد 9) — Page 286
۲۸۶ حق الیقین مطالب تو حل ہو جاتے ہیں لیکن اس قدر وسعت مطالب میں نہیں رہتی جو قرآن کے الفاظ میں پائی جاتی ہے۔غرض یہ کہ احادیث کے مجموعہ سے اسلام کی ترقی میں اور روحانیت کی زیادتی میں بتددلی ہے اور اس کے فوائد بہت سے ہیں جن میں سے چند اوپر بیان کئے گئے ہیں اور ان کے فوائد کا انکار سوائے جاہل یا متعصّب انسان کے اور کوئی شخص نہیں کر سکتا۔اور جن لوگوں نے ان کو ضبط اور جمع کیا ہے اس پر بہی خواہ اسلام کے شکریہ اور دعا کے مستحق ہیں جزاهم الله عنا وعن جميع المسلمين - احادیث کے متعلق یہ امر بھی لینا ضروری ہے کہ وہ انسانی کوشش کا نتیجہ ہیں جوصحیح حدیث ہے وہ خدا کے رسول کا قول ہے اور جو غلط ہے اس کی غلطی انسانی علم کی کمی کے سبب سے ہے نہ حدیث کے جمع کرنے والوں نے اپنی کوششوں کو غلطی سے پاک قرار دیا ہے اور نہ وہ غلطی سے پاک کبھی قرار دی گئی ہیں پس اسی حیثیت سے ان پر تنقید کرنی چاہئے کون سا کام انسان کا ہے جس میں غلطی نہیں ہوئی۔پہلے زمانہ کے علوم کے بعض حصوں کو آج کی تحقیق نے باطل ثابت کر دیا ہے مگر اس سے ان علوم کے مدوّن کرنے والوں کی ذات پر کوئی حرف نہیں آتا۔موجودہ طب خواه و یونانی ہو خواہ انگریزی اسب سے ہزاروں گنے بڑھ کر ہے جو آج سے پہلے دنیا میں مروّج تھی اور آئنده زمانہ کی ترقیات موجودہ زمانے کی طب کو بھی پیچھے چھوڑ جائیں گی مگر باوجود اس کے ان لوگوں کے احسان اور ان کی شان میں ہرگز شبہ نہیں کیا جائے گا جنہوں نے آج سے دو ہزار سال پہلے طب کو مدوّن کیا۔جالینوس *۱۰؎ کی سیکڑوں غلطیاں ثابت ہو جائیں پھر بھی وہ جالینوس کا جالینوس ہی رہے گا اور ہر علم دوست انسان اس کے احسان اور اس کے علم کی قدر کرے گا کیونکہ سوال یہ نہیں ہے کہ جالینوس کیا جانا تھا بلکہ سوال یہ ہے کہ جالینوس نے علم میں کس قدر زیادتی کی اور آئندہ علوم کی ترقی میں کس قدر مدد کی۔اگر اس کی سَو بات غلط ثابت ہو جاۓ تو ہو جائے مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ اس نے بعض باتیں ایسی دریافت کیں کہ وہ آئندہ علوم کی ترقی کے لئے بنیاد ہو گئیں۔پچھلی تحقیق ہے کہ اس کی تحقت سے بڑھ کر ہے مگر اس کی تحقیق نہ ہوتی تو یہ بعد کی تحقیق بھی نہ ہوتی۔سقراط ۱۱؎ اپنے علم الاخلاق کے سبب اور افلاطون ۱۲؎ اپنے فلسفہ کے سبب سے ہمیشہ یاد رکھے جاویں گے گو علم الاخلاق اور فلسفہ کس قدر ہی ترقی کیوں نہ کر جائیں اور نئی تحقیق ان کی تحقیقاتوں میں ہزاروں غلطیاں کیوں نہ ثابت کر دے گی انان پرستی کے سبب سے نہیں بلکہ اس