انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 284

انوار العلوم جلد 9 ۲۸۴ من اليقين خود بڑے بڑے ائمہ اس رسم کرنا پسند کرتے ہیں ان کی ہدایت کا موجب وہ روایات ہی ہوتی ہیں جو احادیث کے نام سے مشہور ہیں اور انہیں سے معلوم کرتے ہیں کہ اس کا کام کا ثبوت ائمہ اہل بیت کے عمل سے نہیں ملتا اگر وہ روایات نہ ہوتیں تو وہ کیونکر سمجھتے کہ یہ کام حضرت امام زین العابدین کے زمانہ سے چلا آتا ہے یا بعد میں کسی تماش بین طبیعت نے ایجاد کر کے اپنے ہم مذاق لوگوں کی ہمدردی کو حاصل کر کے اس کا رواج عام کر دیا ہے۔ علم حدیث کا ایک اور فائدہ بھی ہے کہ یہ سنت کے متعلق ہمیں یہ علم بھی دیتا ہے کہ کونسی سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ مرغوب تھی۔ بے شک نسلاً بعد نسل مسلمانوں کا طریق عمل اس امر کو تو ثابت کر سکتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کو کس طرح کیا یا کس کس طرح کیا لیکن یہ بات تو اتر اور عمل سے نہیں معلوم ہو سکتی تھی کہ کئی طریقوں پر جو کام کیا گیا ہے ان میں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ پسندیدہ کون سا طریق تھا یا کس طریق پر آپ خود اکثر عمل فرماتے تھے ایک سالک راہ کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق کے لئے یہ علم نہایت ہی دل کو تقویت دینے والا اور معلومات کے ذخیرہ کو بڑھانے والا ہے۔ علم حدیث کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم کے وہ بہت سے معارف جسے ایک عام انسان خود نہیں معلوم کر سکتا تھا بلکہ اعلیٰ درجہ کی روحانیت کے حصول کے بغیر ان پر اطلاع ہی نہیں ہو سکتی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ظاہر کر دیئے گئے ہیں اور ہر ایک شخص ان سے فائدہ اٹھا کر قرآن پر تدبر کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے مثلاً قرآن کریم میں دوزخ کا عذاب ابدی قرار دیا گیا ہے مگر اسے غیر متناہی نہیں قرار دیا گیا لیکن عام طور پر لوگ اس امر کو نہیں سمجھ سکے اور انہوں نے قرآن کریم کی آیت رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ ے کی تہہ کو نہیں پایا۔ اور نہ اُمَّهُ هَاوِيَةٌ " کی آیت پر غور کیا کہ کیا کوئی شخص ماں کے پیٹ میں ہمیشہ رہتا ہے اور نہ یہ سوچا کہ جنت کے انعامات کی نسبت کیوں باوجود ابد کے الفاظ استعمال ہونے کے غَيْرَ مَجْذُودٍ (نہ کٹنے والے) اور غَيْرُ مَمْنُونٍ نے (نہ کٹنے والے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور کیوں دوزخ کی نسبت یہ الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لَيَأْتِيَنَّ عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ که فرما کر اس نکتہ معرفت کو جو ستر خلق کی جان اور معرفت کی روح ہے ہر ایک شخص تک پہنچا دیا اب جو شخص ضد اور تعصب سے خالی ہو اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔