انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 275

۲۷۵ شادی ہو گی اور نہ بچے جنیں گی۔پس جب یورپ کی عورتیں انتہائی تعلیم پاکر بھی زیادہ تر گھرہی میں کام کرتی ہیں تو معلوم ہوا عورتوں کی تعلیم کا جزو اعظم تربیت اولاد اور گھر کا کام ہی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچوں کے کپڑے سینا اور پہنانا ہی عورتوں کا کام ہے بلکہ بچوں کو تعلیم دینا بھی ان کا فرض ہے۔اور اس کے لئے ان کا خود تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔اس کے علاوہ بچہ کی مذہبی تعلیم ، امور خانہ داری کا انتظام یعنی حساب کتاب رکھنا، صحت کا خیال رکھنا، خوراک کے متعلق ضروری معلومات ہونا، اوقات کی پابندی کا خیال رکھنا، یہ جاننا کہ سونے جاگنے، اندھیرے روشنی وغیرہ کا صحت پر کیا اثر ہوتا ہے کیونکہ عورت نے بچہ کے متعلق ان باتوں کو اس وقت کرتا ہے جس وقت کے اثرات ساری عمر کی کوششوں سے دور نہیں کئے جاسکتے۔مگر ہماری عورتیں ابھی ان باتوں کے متعلق کچھ نہیں جانتیں۔اس کے لئے سب سے پہلی چیز جو ضروری ہے کہ تعلیم یافتہ عورتوں کا میسّر آنا ہے۔اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ پہلے استاد عورتیں میسّر آجائیں۔مردوں کے ذریعہ لڑکیوں کو ایک عرصہ تک تو تعلیم دی جاسکتی ہے زیادہ عمر تک نہیں دی جاسکتی کیونکہ قدرتی طور پر اور رسم و رواج کے لحاظ سے لڑکی جب جوانی کی عمر کو پہنچتی ہے تو اس میں ایک حد تک حیا پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے نے یورپ میں ضروری نہیں سمجھا جاتا لیکن ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔اب ادھر لڑکی میں اس کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے اور اور مرد اُستاد اسے پڑھانے والا ہو تو اس کے جذبات اور احساسات دب جائیں گے۔کیونکہ وہ اس عمر کی اُمنگیں اور جذبات کا اظہار نہ کر سکے گی جو عورت ُاستاد ہونے پر اس کے سامنے کر سکتی تھی۔ہمیں لڑکیوں کے لئے اپنے استادوں کی ضرورت ہے جو موقع اور محل پر سنجیدگی اور متانت سے بھی کام لیتے ہوں لیکن انہیں ہنسی بھی آسکتی ہو۔کھیل کود میں بھی اپنے شاگردوں میں حصہ لے سکیں اور ان میں خوش طبعی پیدا کر سکیں۔یہ باتیں ہم مردوں کے ذریعہ لڑکیوں میں پیدا نہیں کر سکتے کیونکہ مردوں کے ذریعہ یا تو ان میں وہ باتیں پیدا ہو جائیں گی جنہیں ہم پیدا نہیں کرنا چاہتے اور جن کے پیدا کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا یا وہ مرد ہو جائیں گی۔ان میں زندگی کی روح باقی نہ رہے گی اس لئے ضروری ہے کہ لڑکیوں کے لئے عورتیں اُستاد مہیا کی جائیں۔جن عورتوں کی پڑھائی کا علیحده انتظام کیا گیا ہے وہ دراصل اُستانیاں ہیں نہ کہ طالبات۔ان میں زیادہ شادی شدہ ہیں اور تھوڑی بِن بیاہی ہیں۔پھر زیادہ وہ ہیں جو پہلے ہی تعلیم یافتہ ہیں اور