انوارالعلوم (جلد 9) — Page 269
انوار العلوم جلد 9 ۲۶۹ مستورات سے خطاب کسی انسانی دخل کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں برف کا عذاب موجود ہے اس میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ پھر فرماتا ہے ۔ وَدَانِيَةٌ عَلَيْهِمْ ظِلَلُهَا وَ ذُلِلَتْ قُطُلُوْ فَهَا تَدْلِيلاً ۔ وہاں سائے جھکے ہوئے ہوں گے اور وہاں ہر قسم کے کھانے ہوں گے۔ (حضور نے اسی طرح دیگر آیات کی تفسیر فرماتے ہوئے اس آیت کے متعلق کہ وَيُطَافُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُوا لُولُوا مَنْثُورًا - ) فرمایا: اب یہ عورتوں کے متعلق ہے۔ اور عورتیں خوش ہوں گی کہ ان کے آگے جو بچے پھریں گے وہ وہی بچے ہوں گے جو ان کے مرہ مر جاتے ہیں۔ وہ خوبصورت موتیوں کے طرح ہوں گے۔ وہ ہمیشہ ایک ہی سے رہیں گے۔ اس دنیا میں تو بچہ بیمار ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ اس کی شکل بگڑ جاتی ہے۔ پھر کوئی بچہ ذہین ہوتا ہے۔ کوئی کند ذہن ہوتا ہے۔ مگر وہاں سب بچے ایک سے ہوں گے۔ گویا موتی بکھرے ہوئے ہوں گے۔ چونکہ مردوں میں تقریر فرمانے کا حضور کا وقت ہو گیا تھا۔ اس لئے حضور نے بقیہ آیات کی مختصر تفسیر فرما کر ان الفاظ پر تقریر ختم فرمائی کہ ) جب تک تم احمدیت کی تعلیم کو پورا نہیں کرو گی احمدی کہلانے کی مستحق نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم پوری احمدی بنو تا کہ اگر ایسا وقت آئے جب ہمیں خدا کے دین کے لئے تم سے جدا ہونا پڑے تو تم ہمارے بچوں کی پوری پوری تربیت کر سکو۔ دنیا اس وقت جہالتوں میں پڑی ہوئی ہے تم قرآن کو سمجھو اور خدا کے حکموں پر چلو۔ الفضل ۲ فروری ۱۹۲۶ء )