انوارالعلوم (جلد 9) — Page 268
انوار العلوم جلد۔ ۲۶۸ مستورات سے خطاب مسکینوں اور قیدیوں کو کھلا آتے ہیں۔ پھر اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَلَا شكورا ۔ وہ کھانا کھلا کر احسان نہیں جتاتے کہ فلاں وقت ہم نے یہ احسان کیا تھا یا دعوت دی تھی بلکہ ان کا احسان اپنے اوپر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہم کو نیکی کا موقع دیا۔ ان کو کسی کے ساتھ سلوک کرنے میں مزا آتا ہے۔ پس مؤمن جس کے ساتھ سلوک کرتا ہے اس کا احسان سمجھتا ہے کہ اس نے شکر کا موقع دیا۔ علی حبہ کا یہ مطلب ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اللہ ہی کے لئے کرتا ہے۔ شہرت کے لئے نہیں کرتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کرتا ہے اس کا ایک ہی مقصود ہوتا ہے کہ میرا موٹی مجھ سے راضی ہو جائے۔ پھر ان کی احسان کرنے کی ایک اور بھی غرض ہوتی ہے۔ اور وہ یہ کہ إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِ تیرا۔ اس دن خدا ہمارے کام آئے جو کہ بہت ڈراؤنا دن ہے۔ اللہ تعالٰی ہم کو ان خطرات سے بچائے اور ہم پر رحم کرے۔ ایسے لوگوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَوَ قُهُم الله شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَهُمْ نَضْرَةً وَ سُرُورًا۔ ایسے ایمان والوں کے ساتھ اللہ تعالی ایسا سلوک کرے گا کہ وہ قیامت کے دن محفوظ رہیں گے اور ان کو اچھا بدلہ دے گا۔ پھر فرماتا ہے۔ و جَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةٌ وَ حَرِيرًا ۔ یہ بدلہ ان کو ان کے ایمان کے بدلے میں ملے گا۔ مُتَّكِثِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ لَا يَرَوْنَ فِيْهَا شَمْسًا وَ لَا زَمْهَرِيرًا ۔ وہ سب کے سب بادشاہ ہوں گے۔ وہاں نہ گرمی ہوگی نہ سردی۔ وہ ایک نئی دنیا ہو گی وہاں گرمی بھی نہیں ہو گی یعنی نہ وہاں جوش آئے گا اور نہ ٹھنڈ ہی ہوگی۔ یعنی نہ ہی جوش کم ہو جائے گا ایک ہی رنگ ہو گا۔ دیکھو قرآن کریم کی تعلیم کیا پر حکمت ہے قرآن نے دوزخ کے عذاب میں بتلا دیا کہ وہاں سردی کا بھی عذاب ہو گا اور گرمی کا بھی۔ سرد ملکوں کے لوگوں کو سردی کے عذاب سے ڈرایا ہے اور گرم ملکوں کے لوگوں کو گرمی سے۔ بعض ملک اسقدر برفانی ہیں کہ وہاں کے لوگ برف ہی کے مکان بنا لیتے ہیں۔ وہاں پر اگر کسی کو پانی پینا ہوتا ہے تو برف کو رگڑ رگڑ کر پانی بناتے ہیں۔ وہاں آگ ایک نعمت سمجھی جاتی ہے۔ چونکہ انجیل میں صرف آگ کے عذاب کا ہی ذکر ہے اس لئے جب اس برفانی ملک میں ایک پادری گیا اور وہاں جا کر عیسائیت کی تبلیغ کی اور کہا کہ اگر تم نہ مانو گے تو خدا تم کو آگ میں ڈالے گا تو وہ لوگ یہ سن کر بہت خوش ہوئے کہ اوہو! ہم آگ میں ڈالے جائیں گے۔ کیونکہ آگ ان کے لئے نعمت تھی۔ اس طرح جب پادریوں نے دیکھا کہ یہ آگ سے نہیں ڈرتے تو انہوں نے ایک کمیٹی کی اور کہا کہ آگ کی جگہ برف کا عذاب لکھ دو۔ مگر قرآن شریف میں