انوارالعلوم (جلد 9) — Page 267
انوار العلوم جلد9 ۲۶۷ لائے تو قتل کئے گئے۔صحابہ کو بڑی بڑی تکلیفیں دی گئیں۔حضرت بلال کو گرم ریت پر لٹا کر مارتے اور کہتے کہولات خداہے۔فلاں بت خدا ہے۔مگر وہ لا اله الا الله ہی کہتے۔باوجود اسقدر تکلیفوں کے انہوں نے اپنا ایمان نہ چھوڑا۔تو ایمان لانا کوئی معمولی بات نہیں۔جنت کے اردگرد جو روکیں ہیں۔اور مشکل سے بنتی ہیں۔اور جو لوگ ایمان کی نہر کھود کر لاتے ہیں وہ بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں۔یہاں جو نہر سے مشابہت دی ہے تو اسی لئے کہ نہربڑی مشکل سے کُھدتی ہے۔اگر اکیلے کسی کو کھودنی پڑے تو کبھی نہ کھود سکے۔اب اگر ہماری جماعت کے مرد یا عورتیں خیال کریں کہ ہم کو یونہی ایمان مل جائے اور کوئی قربانی نہ کرنی پڑے تو یہ ناممکن ہے۔ایمان کے لئے بہت سی قربانیوں کی ضرورت ہے۔قربانیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک تو خدا کی طرف سے ہوتی ہیں۔اور دوسری بندہ آپ اپنے اوپر عائد کرتا ہے۔پہلی قربانیاں جو خدا کی طرف سے ہوتی ہیں۔وہ اس قسم کی ہوتی ہیں مثلا ًکسی کا بچہ مرجائے یا کسی کی بیوی مر جائے۔اس میں بندے کا دخل نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ جو دو سری قربانی ہے اس میں انسان کا دخل ہوتاہے کہ بھائی بند، بیٹا، بیوی سب مخالف ہیں اور وہ ایمان لاتا ہے اور ان کی پرواہ نہیں کرتا۔یہ ہے جو ایمان کی نہر کو چیر کر لاتا ہے۔اسی طرح ایک عورت ہے جس کی سمجھ میں حق آگیا یا کوئی لڑکالڑکی ہے جس پر حق کھل گیا اور وہ اپنے ایمان پر قائم رہے۔اور مخالفت کا خیال نہ کرے تو یہی نہر ہے جو کھود کر لاتے ہیں۔بچپن میں ایمان لانے والوں میں بھائی عبدالرحمنٰ قادیانی ہیں جو پہلے ہندو تھے ان کے والد آکر ان کو لے گئے اور جا کر ایک کمرہ میں بند کر دیا۔چھ مہینے بند رکھا۔ایک دن انہیں موقع ملا تو وہ پھر بھاگ کر یہاں آگئے۔تو ایمان کی نہرحاصل کرنے کے لئے بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔دنیا میں جب کوئی کپڑا، جوتی، روپیہ غرض کوئی چیز مفت نہیں ملتی تو ایمان جیسی نعمت کیسے مفت مل جائے۔اور نہر کا لفظ بتا رہا ہے کہ یہ بڑا مشکل کام ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مومن وہی ہے جو قربانی کرتا ہے۔اس سے وہ ترقی کرتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یوفون بالنذر ويخافون یوما كان شرہ مستطيرا۔وہ خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں اس دن سے کہ انجام کادن ہو گا۔انجام کادن ایک دنیا میں بھی آتا ہے اور ایک آخرت میں آئے گا۔اول آپ قربانی کرتے ہیں۔پھر اس سے بڑھ کر دُنیا میں خدا کے مظہر بن جاتے ہیں۔ويطعمون الطعام على حبہ مسکینا و یتیما و اسیرا۔خدا رزق دیتا ہے وہ بھی لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔حتی کہ آپ محتاج ہوتے ہیں مگر اپنا کھانا غریبوں،