انوارالعلوم (جلد 9) — Page 265
انوار العلوم جلد 8 ۲۶۵ مستورات سے خطاب تھا کہ جو کوئی ان کے وعظ میں جائے یا ان سے ملے وہ کافر ہو گا اور اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی کیونکہ یہ مسئلہ ہے کہ جب مرد کافر ہو جائے تو اس کی بیوی کو طلاق ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ ایک احمدی ان کے وعظ میں گیا اور ان سے کہا آپ نے میری شکل دیکھ لی ہے۔ میں احمدی ہوں۔ اس لئے آپ اب کافر ہو گئے اور آپ کی بیوی کو طلاق ہو گئی۔ اس پر اس پر سب لوگ اس کو مارنے لگ گئے۔ خیر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں جائیں گے؟ میں نے کہا۔ بٹالہ۔ انہوں نے کہا کیا خاص بٹالہ۔ یا کسی اور جگہ ۔ میں نے کہا۔ بٹالہ کے پاس ایک گاؤں ہے وہاں۔ انہوں نے کہا۔ اس گاؤں کا کیا نام ہے۔ میں نے کہا قادیان۔ کہنے لگے۔ وہاں کیوں جاتے ہو۔ میں نے کہا میرا وہاں گھر ہے۔ کہنے لگے کیا تم میرزا صاحب کے رشتہ دار ہو۔ میں نے کہا۔ میں ان کا بیٹا ہوں۔ ان دنوں ان کا کسی احمدی کے ساتھ جھگڑا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ میں اس احمدی سے کہوں کہ مقدمہ چھوڑ دے۔ مگر انہوں نے پہلے غرض نہ بتائی اور کچھ خشک میوہ منگوا کر کہا۔ کھاؤ۔ میں نے کہا مجھ کو نزلہ کی شکایت ہے۔ کہنے لگے۔ جو کچھ تقدیر الہی میں ہوتا ہے۔ وہی ہوتا ہے۔ میں نے کہا۔ اگر یہی ہے۔ تو آپ سے بڑی غلطی ہوئی۔ ناحق سفر کی تکلیف برداشت کی اگر تقدیر میں ہوتا۔ تو آپ خود بخود جہاں جانا تھا پہنچ جاتے اس پر خاموش ہو گئے۔ تو تقدیر کے متعلق بالکل غلط خیال سمجھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ہم کسی کو مؤمن یا کافر نہیں بناتے۔ بلکہ وہ خود ہی شکر گزار بندہ یا کافر بنتا ہے۔ اور ہم نے جب اس کو مقدرت دے دی تو حساب بھی لیتا ہے۔ دیکھو جس نوکر کو مالک اختیار دیتا ہے کہ فلاں کام اپنی مرضی کے مطابق کر، اس سے محاسبہ بھی کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَلْسِلَا وَأَغْلُلاً وَسَعِيرًا - جو لوگ انکار کرتے ہیں۔ ان کے لئے زنجیریں اور طوق ہے اور آگ رکھی ہے۔ وہ زنجیر کیا ہے۔ وہ رسوم ہیں جن کا تعلق قوم کے ساتھ ہوتا ہے۔ مثلاً بیٹے کا بیاہ کرنا ہے۔ تو خواہ پاس کچھ نہ ہو قرض لے کے رسوم پوری کرنی ہوتی ہیں۔ یہ زنجیر ہوتی ہے جو کافر کو جکڑے رہتی اور وہ اس سے علیحدہ نہیں ہونے پاتا۔ اس کے مقابلہ میں مؤمن ہے اس کے نکاح پر کچھ خرچ نہیں ہوتا۔ اگر توفیق ہے تو چھوہارے بانٹ دو۔ اگر نہیں تو اس کے لئے بھی جبر نہیں۔ پھر اغلال وہ عادتیں ہیں جن کا اپنی ذات سے تعلق ہے۔ اسلام عادتوں سے بھی روکتا ہے۔ شراب، حقہ، چائے کسی چیز کی بھی عادت نہ ہونی چاہئے۔ انسان عادت کی وجہ سے بھی گناہ کرتا ہے۔ حضرت صاحب کے زمانہ میں حضرت صاحب کے مخالف رشتہ داروں میں سے بعض لوگ حقہ لے