انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxix
۲۱ کے سلسلہ میں اسلام نے جو تعلیم چودہ سو سال قبل دی آج سائنس اسے درست تسلیم کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر حضور فرماتے ہیں:۔ حدیث شریف میں آتا ہے إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحْدِكُمْ فَلْيَفْسِلُهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَو لَهُنَّ بِالتُّرَابِ یعنی جس برتن کو کتا چاٹ جائے اس کو سات دفعہ مٹی سے مل کر دھونا چاہئے۔ ڈاکٹر کاخ جو جرمنی کے مشہور میتھالوجسٹ میں انہوں نے Postwar Institute میں جب کام شروع کیا تو انہیں چونکہ اسلامی لٹریچر کے مطالعہ کا شوق تھا اس لئے خیال آیا کہ حدیث میں جو آتا ہے کہ کتے کے چائے ہوئے برتن کو مٹی سے ملنا ، ملنا چاہیئے اس میں ضرور کوئی حکمت ہوگی۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) دانا آدمی تھے انہوں نے ضرور اچھی بات کہی ہوگی۔ پس انہوں نے تحقیقات شروع کی تو معلوم کیا کہ مٹی کے اندر ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو Rabies ( کتے کا زہر کیلئے مفید ہیں اور اس کے مصلح ہیں گویا ان کو حدیث نے اس طرف توجہ دلائی۔" آخر میں حضور نے طلباء کو نصیحت کی کہ وہ اسلام کا خود مطالعہ کریں۔ قرآن ہاتھ میں لیں اور اس پر غور کریں انہیں خود یقین آجائے گا کہ سائنس اسلام کے خلاف نہیں بلکہ اس کی تعلیم کو سچا ثابت کرتی ہے۔ (۱۸) فسادات لاہور پر تبصرہ مئی ۱۹۲۷ء میں ایک دن جب کہ مسلمان لاہور کی ایک مسجد میں نماز پڑھ کر باہر نکلے تو بلا اشتعال بعض ہندوؤں اور سکھوں نے انہیں قتل کر دیا۔ نتیجہ دونوں قوموں میں فساد شروع ہو گیا۔ اس موقعہ پر حضور نے یہ اشتہار لکھا جو لاہور میں کثرت سے تقسیم کیا گیا۔ حضور نے دونوں فریق کو جذبات پر قابو پانے کی اور فساد سے بچنے کی تلقین کی۔ نیز مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :۔ ہمیں اپنا بدلہ اس تعلیم سے اور اس تعصب سے لینا چاہئے جس کے نتیجہ