انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 248

۲۴۸ نہیں ہو سکتا۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ میری قوت ارادہ غالب نہ آئے۔اسے اسقدر دوہرائے کہ قوتِ ارادہ نفس پر غالب آجائے۔(۵) یہ آیت پڑھا کرے اِنَّ عِبَادِيْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ۔یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں پر شیطان کا قبضہ نہیں ہے۔وہ سوچے مَیں خدا تعالیٰ کا بندہ ہوں اور خدا کے بندوں پر شیطان کا تسلّط نہیں ہو سکتا۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ بدی مجھ پر غالب آجائے۔(۶) یہ آیت پڑھے لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔اور یہ خیال کرے کہ مَیں خدا تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔مَیں مومن ہوں اور مومن کو سوائے خدا کے کسی کا خوف نہیں ہو سکتا۔(۷) اس آیت پر غور کرے نَحْنُ اَوْلِیٰئُکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ۔جو مومن ہوتا ہے اس پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تمہارے مددگار ہیں۔پھر تم کیوں گھبراتے ہو۔(۸) آیت وَلَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِنَّہٗ لَا یَیْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ پڑھے اور سوچے مَیں مشکلات سے مایوس نہیں ہو سکتا۔مایوسی موت ہے جسے قبول کرنے کے لئے مَیںتیار نہیں ہوں۔اگر ارادہ نہیں مانتا تو مَیں اسے سیدھا کرکے چھوڑ دونگا۔(۹) یہ آیت زیر غور رکھے یٰآیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ارْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً فَادْ خُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ مَیں مطمئن ہوں اور غیر محدود امیدیں میرے سامنے کھڑی ہیں۔پھر مجھے کیا گھبراہٹ ہو سکتی ہے جبکہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے اور فرماتا ہے۔جا اس جنت میں داخل ہو جا جو کبھی برباد نہیں ہو سکتی۔(۱۰) حدیث یَوْضَعُ لَہُ الْقُبُوْلُ زیر نظر رہنی چاہئے۔اور سوچنا چاہئے کہ مومن کے متعلق تو اللہ تعالیٰٰ وعدہ کرتا ہے کہ اس کی قبولیت دنیا میں پھیلائی جائیگی اور وہ ذلیل نہیں ہوگا۔اِس سے بھی قوت ارادی بڑھتی ہے۔(۱۱) وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لَاٰیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ کی آیت پر غور کرتا ہوا یہ خیال کرے کہ سب ناکامیاں لالچ اور حرص سے پیدا ہوتی ہیں۔مگر مجھے کسی چیز کی حرص نہیں ہے۔کیا پہلے ہی خدا تعالیٰ نے میرے لئے سب کچھ نہیں بنا چھوڑا؟