انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 247

۲۴۷ کسی روک کی پرواہ نہیں کرونگا۔بعض دفعہ چونکہ قوت ارادی کمزور ہوتی ہے اس لئے ایک کام کا انسان ارادہ کرتا ہے۔مگر پھر گر جاتا ہے۔اس لئے مَیں قوتِ ارادی کو مضبوط اور طاقتور بنانے کے لئے ایک نسخہ تجویز کرتا ہوں جس میں تیرہ دوائیں پڑتی ہیں۔اور وہ دوا ئیں قرآن کریم اور احایث سے ملتی ہیں۔(۱) اوّل یہ کہ اس آیت کو انسان ورد میں لائے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔مَیں نے انسان کو صرف عبادت کے لئے پیدا کیا ہے یعنی اپنا بندہ بننے کے لئے پیدا کیا ہے۔انسان اس بات کا خیال کرے اور کہے کہ مجھے اللہ تعالیٰٰ نے اپنے قرب کے لئے پیدا کیا ہے اور خدا تعالیٰ کی پیدائش رائیگاں نہیں جا سکتی۔مَیں ضرور اس کا عبد بنونگا اور ہو نہیں سکتا کہ نہ بنوں۔وہ یہ خیال نہ کرے کہ مجھ سے کچھ نہیں ہو سکتا۔مَیں کچھ نہیں کر سکتا بلکہ وہ اس طرح نقشہ جمائے اور اس طرح تصور باندھے کہ گویا خدا تعالیٰ نے اسے پکڑ کر کہا ہے کہ اُٹھ کام کر۔یہ وہی بات ہے جسے صوفیا مراقبہ کہتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان گردن ڈال کر بیٹھا رہے بلکہ یہ ہے کہ بار بار سوچے اور غور کرے کہ بھلا کبھی یہ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے عبد بننے کے لئے پیدا کرے اور مَیں کچھ اور بن جاؤں۔(۲) اس آیت کے مضمون پر غور کرے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ خدا تعالیٰ نے مجھے بہترین طاقتیں دیکر بھیجا ہے جو نیکی بھی انسان کے لئے ممکن ہے وہ میرے لئے بھی ممکن ہے۔اور جو بھی اعلیٰ درجہ حاصل ہونا ممکن ہے وہ میرے لئے بھی ممکن ہے۔پھر میں کس طرح گر سکتا ہوں۔اس بات کا بھی خوب نقشہ جمائے اور بار بار اس پر غور کرے۔(۳) تیسرے اس آیت کا ورد کرے نَحْنُ اَقْرَبَ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْد۔اور اس رنگ میں اس کا مفہوم سوچے اور اسے ذہن میں نقش کرے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور وہ ان باریک درباریک وساوس کو جانتا ہے جو دل میں پیدا ہوتے ہیں اور دل کو پراگندہ کر سکتے ہیں حتّٰی کہ وہ انسان کے نفس سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے۔نفس جب وسوسے پیدا کرتا ہے وہ جھٹ اسکو مٹا سکتا ہے۔یہی بات خدا تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کی ہے۔اور بندہ کو تسلی دی ہے کہ خوف کی کیا وجہ ہے جبکہ وسوسوں کے سامان سے زیادہ قریب وسوسے مٹانے کے سامان ہیں۔(۴) اس آیت پر غور کرے وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۔اس کے متعلق اس طرح سوچے کہ میں مومن ہوں اور مومن کسی سے مغلوب