انوارالعلوم (جلد 9) — Page 245
انوار العلوم جلد 9 ۲۴۵ منهاج الطالبين (۹) نواں علاج عزت نفس کی طاقت کا پیدا کرنا ہے۔ یعنی انسان ہر قسم کی ذلت اور شرمندگی کی برداشت سے انکار کرے۔ کے میری طرف بدی کیوں منسوب ہو۔ اس طرح نفس کو غیرت آتی ہے۔ اور وہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور پھر ارادہ سے کام کر اپیتا ہے۔ (۱۰) دسواں علاج وقار ہے یعنی جو باتیں تم سے متعلق نہ ہوں ان میں خواہ مخواہ دخل نہ دو۔ ہر کام میں دخل دینا چھچھورا پن ہوتا ہے اور اس سے انانیت مردہ ہو جاتی ہے۔ (11) گیارہواں علاج امید ہے۔ اس طاقت کو اپنے اندر بڑھاؤ۔ اس سے بھی اعزاز نفس حاصل ہوتا ہے۔ انسان یقین رکھے کہ ایسا ہو جائے گا۔ اس طرح اپنے نفس پر اعتبار کرنے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ (۱۲) بارہواں علاج خوش مزاجی ہے۔ اس سے انسان میں طاقت پیدا ہوتی ہے۔ اور کڑھنے سے طاقت ضائع ہو جاتی ہے۔ ان میں سے بہت سی باتیں ایسی ہیں جو مشکل ہیں لیکن اگر کوئی ان میں سے چند پر بھی عمل کرے گا تو اس میں طاقت پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔ یہ سب امور ذہنی ہیں اور ان کی مشق سے انسان کی ذہنی قوتیں نشو و نما یا سکتی ہیں یہاں تک کہ ارادہ ہی ماتحت آجائے۔ ان کے استعمال کا بہتر طریق یہ ہے کہ انسان انسان کی حیثیت پر غور کرے جو میں نے بتائی ہے اور اس سے چند ہی دن میں علی قدر مراتب وہ اپنے اندر انائلیت کا جذبہ بڑھتا ہوا پائے گا۔ مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انانیت ہی حد سے بڑھ جاتی ہے اور اس سے گناہ پیدا ہونے لگتے ہیں۔ جیسے ایک ظالم آتا ہو جو خوامخواہ تو کروں کو مارتا رہتا ہو۔ ایسی حالت میں اس کا علاج خدا تعالیٰ کی بے نیازی پر غور کرتا ہے۔ انسان سوچے کہ اگر میری میں اس طرح ہر نقص پر گرفت کر رہی ہے تو اگر خدا تعالیٰ مجھ سے یہی سلوک کرے تو میری کیا حالت ہو اور یہ سوچے کہ مجھے جو کچھ ملا ہے وہ خدا تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ میں اس کا مالک نہیں ہوں۔ میں تو صرف امین ہوں اور امانت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ اس لئے مجھے بے جانتی نہیں کرنی چاہئے۔ جب انانیت پیدا ہو جائے یا وہ پہلے ہی موجود ہو مگر مشکل ارادے کے متعلق ہو یا درمیانی روکوں کے متعلق ہو تو اس صورت میں اس کا مندرجہ ذیل علاج ہے۔ (1) اول تو وہی ظاہر و باطن کی مشابہت پیدا کرنا ہے جو پہلے بیان کر آیا ہوں کہ ظاہری طور پر انسان تصنع سے ہی کام کرے اس کا اثر باطن پر پڑے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر