انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 235

انوار العلوم جلد و ۲۳۵ منهاج الطالبين پس بندہ کا کام یہ ہے کہ اپنے کام میں لگا رہے۔ نماز میں اگر توجہ قائم نہیں رہتی تو نہ رہے یہ اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ نماز نہ چھوڑے۔ مگر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب انسان ظاہر میں نیکی کرتا ہے تو اس کا اثر باطن پر کا اثر باطن پر پڑتا ہے اور انسا اور انسان پاک ہوتا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس طرح بھی کامیابی نہ ہو انسان ارادے کرتا رہے لیکن وہ ٹوٹ ٹوٹ جائیں۔ اُٹھتا رہے مگر پھر گر گر جائے۔ ہمت کرتا رہے مگر ناکامی کا منہ دیکھنا ہی نصیب ہو۔ ایسے انسان کو یقینا سمجھ لینا چاہئے کہ اس کے دل پر بہت زنگ لگ گیا ہے اور اس کے دُور کرنے کے لئے تفصیلی علاج کی ضرورت ہے کیونکہ اس پر نفس غالب آچکا ہے اور وہ مغلوب ہو گیا ہے اور وہ احساس انانیت جس کی طرف میری اس نظم میں جو گل پڑھی گئی اشارہ کیا گیا ہے وہ مٹ گیا ہے اور وہ اس جانور کی طرح ہو گیا ہے جسے انسان نکیل ڈال کر جہاں چاہتا ہے لے جاتا ہے۔ اُس کا نفس بھی اُسے نکیل ڈالے لئے پھرتا ہے۔ پس اس کے لئے پہلے تو اجمالی اصولی علاج اور پھر تفصیلی اصولی علاج بیان کرتا ہوں۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں اس کے متعلق کچھ کہوں اس فلسفہ اخلاق میں جو پہلے سمجھا جاتا تھا اور اس میں جو احمدی نقطہ نگاہ سے اب سمجھا جاتا ہے فرق بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ مسلمانوں میں فلسفہ اخلاق کے بانی ابن مردویہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس پر ایک کتاب لکھی ہے اور بعد میں ابن عربی سب سے بڑے اُستاد سمجھے جاتے تھے۔ ان کے بعد امام غزالی ہوئے جنہوں نے اخلاق پر ایک چار جلد کی کتاب لکھی ہے۔ ان کے بعد کوئی کتاب نہ لکھی گئی اور یہ سمجھ لیا گیا کہ فلسفہ اخلاق ختم ہو گیا۔ اس وجہ سے میں اس کے متعلق روشنی ڈالنا چاہتا ہوں تاکہ وہ لوگ جو اس فلسفہ کی کتابیں پڑھتے ہیں اُن پر وہ غلطیاں ظاہر ہو جائیں جو ان میں پائی جاتی ہیں۔ بے شک وہ باتیں اپنے وقت میں اچھی تھیں مگر اب ان میں غلطیاں ہیں۔ 71 امام غزالی کے فلسفہ اور احمدی فلسفہ میں فرق یہ ہے کہ امام غزالی نے صفات سلبیہ پر بڑا زور دیا ہے۔ لیکن احمدی فلسفہ اخلاق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قائم کیا ہے اس نے اس میں بڑا تغیر کر دیا ہے۔ کیونکہ آپ نے صفات ایجابیہ پر زور دیا ہے۔ یعنی آپ نے یہ فرمایا ہے که اخلاق یہ نہیں کہ یہ نہ ہو وہ نہ ہو بلکہ یہ ہے کہ یہ بھی ہو اور وہ بھی ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ نفس کشی بھی علاج ہے مگر وہ ایک علاج ہے نہ کہ وہی علاج ہے ہم فلسفہ اخلاق پر بحث کرتے ہوئے مندرجہ ذیل باتیں نہیں بھول سکتے۔ اول خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ - کہ ہم نے انسان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے