انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxvii of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxvii

۱۹ پیش کرتی ہے۔ میرے نزدیک اس کے بیٹے کو جو ولایت سے دنیوی فوائد پہنچے ہیں وہ آپ کی جماعت کے طفیل ہی پہنچے ہیں۔ اگر آپ اسے نہ بلاتے تو اس کو یہ فوائد کیسے پہنچتے۔" یاد رہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ ابن سعود کے بیٹے شہزادہ فیصل (جو بعد میں شاہ فیصل ہوئے) مسجد لندن کے افتتاح کی خاطر لندن پہنچ گئے تھے لیکن پھر مولویوں کی مخالفت اور شور کی وجہ سے انہیں مسجد کا افتتاح کرنے سے شاہ ابن سعود نے روک دیا تھا۔ (۱۶) ہندو مسلم فسادات ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل ہندوستان میں فرقہ وارانہ نزاع بڑھ رہا تھا۔ کلکتہ اللہ آباد سہارنپور اور کوہاٹ میں فسادات ہو چکے تھے۔ ان کشیدہ حالات میں بجائے اصلاح اور امن قائم کرنے کے بعض لوگ اپنے مخصوص مفادات کی خاطر مذہبی تعصب کو مزید بڑھا رہے تھے۔ ان حالات میں حضرت مصلح موعود نے یہ تقریر کر کے وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا فرمایا۔ حضور کی یہ تقریر ۲ مارچ ۱۹۲۷ء کو بریڈ لا ہالی لاہور میں ہوئی۔ صدارت کے فرائض ایک اہم مسلمان لیڈر سر محمد شفیع صاحب نے ادا کئے۔ آپ نے اپنے ابتدائی ریمارکس میں فرمایا :۔ حضرات! ہمارے محترم مرزا صاحب نے آج اپنی تقریر کے لئے ایک ایسا عنوان تجویز کیا ہے جس کے ساتھ قدرتاً موجودہ حالات میں ہر بھی خواہ ملک کو دلچسپی ہے۔ میں سمجھتا ہوں وقت آگیا ہے کہ ایسے خیر خواہ اور ہمدرد لوگ اپنی آواز بلند کریں اور بتائیں کہ ہندوستان میں جو لوگ قوموں کو لڑا رہے ہیں وہ ملک کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔ چونکہ اس وقت ہندوستان میں اس قسم کی مشکلات ہیں اس لئے مرزا صاحب آج آپ کو ان سب کا صحیح حل بتائیں گے جس سے امید ہے کہ ملک کے حالات درست ہو جائیں گے۔"